ارطغرل غازی کون تھا

3
0 0
Read Time:4 Minute, 1 Second

محمد عاقل شاہ

ارتغل غازی خلافت عثمانیہ کے بانی تھے ان کی پیدائش 1191 عیسوی میں ہوئی اور وفات 1280 عیسوی میں۔۔ کچھ کتابوں میں 1281 لکھا ہے ۔۔ارطغرل غازی کے تین بیٹے تھے گندوز ساؤچی اور عثمان اور آپکے تیسرے بیٹے عثمان نے 1291 یعنی اپنے والد ارتغل کی وفات کے 10 سال بعد خلافت بنائی اور ارتغرل کے اسی بیٹے عثمان کے نام سے ہی خلافت کا نام خلافت عثمانیہ رکھا گیا لیکن خلافت کی بنیاد ارتغل غازی نے رکھی تھی۔

اسکے بعد اسی خلافت نے 1291 عیسوی سے لیکے 1924 تک, 600 سال تک ان ترکوں کی تلواروں نے امت مسلمہ کا دفاع کیا۔
اس کے ساتھ مسجد نبویﷺ، گنبد خضریٰ اور مسجد حرام کی جدید تعمیر سیدنا امیر حمزہ کا مزار. مکہ مکرمہ تک ایک عظیم الشان نہر. آقائے دوجہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انوار کے گرد سیسہ پلائی دیوار مکہ مکرمہ تک ٹرین منصوبہ جیسے عظیم کارنامے سرانجام دیئے۔

ارطغرل غازی کا خاندان وسطہ ایشیا سے یہاں آیا تھا اور انکے جدِ امجد اوغوز خان Oghuz khan کے بارہ بیٹے تھے جن سے یہ بارہ قبیلے بنے جن میں سے ایک یہ قائی قبیلہ Kayi تھا جس سے ارتغل غازی تعلق رکھتا تھا آپکے والد کا نام سلیمان شاہ تھا, ارتغل غازی کے تین اور بھائی تھے, صارم, ذوالجان اور گلدارو,آپکی والدہ کا نام حائمہ تھا۔

آپکا قبیلہ سب سے پہلے وسطہ ایشیا سے ایران پھر ایران سے اناطولیہ آئے تھے منگولوں کی یلغار سے نمٹنے کیلئے….. جہاں سلطان علاو الدین جو سلجوک سلطنت کے سلطان تھے اور یہ سلجوک ترک سلطنت سلطان الپ ارسلان نے قائم کی تھی 1071 میں بائی زینٹائن کو میں عبرت ناک شکست دی۔ سلطان الپ ارسلان تاریخ کی بہت بڑی شخصیت تھی اور اسی سلطنت کا آگے جاکے سلطان علاؤ الدین بنے تھے۔

اسی سلطان علاوالدین کے سائے تلے یہ 12 قبیلے اوغوز خان رہتے تھے, اور اس قائی قبیلے کے چیف ارطغرل بنے اپنے والد سلیمان شاہ کی وفات کے بعدسب سے پہلے اہلت Ahlat آئے تھے پھر اہلت سے حلب Aleppo گئے تھے 1232 جہاں سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے الغزیز کی حکومت تھی, سب سے پہلے ارطغرل نے العزیز کو اس کے محل میں موجود غداروں سے نجات دلائی پھر اس سے دوستی کی پھر سلطان علاو الدین کی بھتیجی حلیمہ سلطان سے شادی کی…. جس سے آپکو تین بیٹے ہوئے اوپر جو میں نے نام دیے ہیں, ایوبیوں اور سلجوقیوں کی دوستی کروائی, صلیبیوں کے ایک مضبوط قلعے کو فتح کیا جو حلب کے قریب تھا, اسکے بعد ارطغرل سلطان علاو الدین کے بہت قریب ہوگیا۔۔

اس کے بعد منگولوں کی یلغار قریب ہوئی تو ارطغرل غازی نے منگول کے ایک ایم لیڈر نویان کو شکست دی,نویان منگول بادشاہ اوکتائی خان کا دست راست تھا,اوکتائی خان چنگیز خان کا بیٹا تھا اور اس اوکتائی کا بیٹا ہلاکو خان تھا جس نے بغداد کو اس قدر روندا تھا کہ بغداد کی گلیاں خون سے بھر گئی تھیں دریائے فرات سرخ ہو گیا تھا۔اسی نویان کو شکست ارتغل نے دی تھی۔

اور پھر ارطغرل غازی اپنے قبیلے کو لیکے سوغت آئے جو کہ قسطنطنیہ کے قریب ہے, اور پہلے وہاں بازنطین کے ایک اہم قلعے کو فتح کیا اور یہیں تمام ترک قبیلوں کو اکٹھا کیا اور سلطان علاو الدین کے بعد آپ کے بیٹے غیاث الدین سلطان بن گئے انکی بیٹی کے ساتھ ہی عثمان کی شادی ہوئی ایک جنگ میں سلطان غیاث الدین شہید ہو گئے تو عثمان غازی سلطان بن گئے اور انکی نسل سے جاکے سلطان محمد فاتح تھے جس نے 1453 میں جاکے قسطنطنیہ فتح کیا تھا اور اسی پہ حضورمحمد صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم کی غیبی خبر پوری ہوئی۔

تاریخ میں ارتغل غازی جیسے جنگجو بہت کم ملتے ہیں لیکن ہماری نسل انکو جانتی نہیں بہت بہادر جنگجو تھے آپ۔ ہر جنگجو اسلام میں گذرا اس پہ جس نے کچھ نہ کچھہ اسلام کے لیئے کیا اس کا ایک روحانی پہلو ضرور ہے, اسکے پیچھے ایک روحانی شخصت ضرور ہوتی ہے جسکی ڈیوٹی اللہ پاک نے لگائی ہوتی ہے تاریخ اٹھا لیں بھلے اسلام کے آغاز سے لے کر اب تک آج بھی اگر کوئی اسلام کے لیئے امت مسلمہ کے لیئے کوئی ڈیوٹی کر رہا ہے تو اسکا روحانی پہلو بھی ضرور ہوگا۔

اس جنگجو ارطغرل غازی کے پیچھے اللہ پاک نے اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضان سے جسکی ڈیوٹی لگائی تھی وہ شیخ محی الدین ابن العربی تھے (آپ درجنوں کتب کے مصنف ہیں اس کے ساتھ آپ نے قرآن پاک کی مایہ ناز تفسیر بھی لکھی علم کی دنیا کے بادشاہ جانے جاتے تھے اور تصوف میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے) جو اندلس سے ارطغرل غازی کی روحانی مدد کو پہنچے تھے۔امام ابن العربی نے ارطغرل غازی کو دو مرتبہ موت کے منہ سے نکالا اور ہروقت ارطغرل کی روحانی مدد کرتے رہتے تھے ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »