پاکستانی طالب علم جان لیوا دماغی مرض کے علاج میں چینی معاونت پر مشکور

اسلام آباد (شِنہوا) شمالی چین کے تیان جن کے ایک اسپتال میں دماغ کے جان لیوا مرض کا علاج کراتے ہوئے پاکستانی طالب علم نے اپنے اہلخانہ کو

پیغام بھیجا کہ ” میں خیریت سے ہوں ، آپ فکرمند نہ ہوں۔

پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقے سے تعلق رکھنے والے علی حسنین نے کامیابی، تکمیل اور خوشی کے نئے افق کو چھونے کیلئے اپنی آنکھوں میں بڑے بڑے خواب دیکھے ،اور حکومت چین سے تعلیمی وظیفہ ملنے پر پاکستان میں اپنے لوگوں کی خدمت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

تاہم، گزشتہ برس ستمبر میں تیان جن یونیورسٹی میں کنٹرول سائنس اور انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی تعلیم کے دوران، حسنین کی دنیا اس وقت زمین بوس ہونے لگی جب ان میں ہرپس سمپلیکس وائرس سے ہونے والے مہلک وائرل انسیفلائٹس کی تشخیص ہوئی، جو انسانی دماغ پر حملہ آور ہوتا ہے اور دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے یا پھر موت کا سبب بن سکتا ہے۔

اس پر28 سالہ نوجوان نے بتایا کہ جب تیان جن یونیورسٹی کی انتظامیہ نے مجھے اسپتال منتقل کیا تو چینی ڈاکٹروں نے اسپتال انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے والے میرے اہلخانہ کو بتایا کہ میرے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں، اور وہ میری جان بچانے کے لئے ہرایک آپشن کا استعمال کریں گے۔

خوش قسمتی سے ایک بڑی سرجری کرانے اور اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں 1 ماہ سے زیادہ قیام کے بعد ڈاکٹروں کی مسلسل کاوشوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ حسنین کی زندگی بچانے میں کامیاب رہے۔

اسپتال میں 60 دن سے زائد گزارنے اور بیماری سے کافی حد تک صحت یابی کے بعد حسنین کے اہلخانہ نے انہیں پاکستان واپس لانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنے پیاروں کے درمیان رہتے ہوئے اپنا باقی علاج کراسکیں۔

طالب علم نے اسلام آباد میں شِنہوا کو بتایا کہ "میرے پاس چینی حکومت، یونیورسٹی انتظامیہ اور طبی عملے کا شکریہ ادا کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں، انہوں نے غیر معمولی مہربانی، محبت، دیکھ بھال اور مدد کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بے مثال مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔

علی حسنین کے والد علی محمد نے چینی حکومت اور طبی عملے کا بے حد شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ چین میں ان کے بیٹے کی دیکھ بھال کو واقعی سراہتے ہیں۔

محمد نے شِں ہوا کو بتایا کہ "چین ہمارے دوسرے گھر کی طرح ہے ۔ اسی لیے میں نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے لیے چین بھیجا ہے۔ چین نے اس کی سلامتی اور صحت کو مکمل طور پر یقینی بنانے کے لیے ایک کل وقتی نرسنگ ورکر بھی اس کے لئے رکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "بڑی مالی مدد فراہم کرنے کے علاوہ، وہ (چینی) اب بھی ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں، اور ہمیشہ میرے بیٹے کی کیفیت دریافت کرتے ہیں یا پھر پوچھتے ہیں کہ ہمیں علاج کے لئے کسی مالی پریشانی کا سامنا تو نہیں ہے۔

محمد کو یقین ہے کہ چین نے انسانیت، پیشہ ورانہ مہارت اور مخلصانہ تعاون کی ایک قابل ذکرمثال قائم کردی ہے،جو ان کے بقول دونوں ممالک کے درمیان آہنی دوستی اور عوام سے عوام کے تبادلے کو مزید مستحکم کرے گی۔

دماغ کی مہلک بیماری حسنین کے خوابوں، جذبے اور عزائم کو ختم کرنے میں بے اثر ہوتی نظر آرہی ہے، کیونکہ انہوں نے اسے شکست دینے اور مکمل صحتیاب ہونے کے بعد اپنی تعلیم مکمل کرنے کا عزم کررکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میں دوبارہ وہاں (چین) جاکر تعلیم حاصل کرنے کی امید کررہا ہوں۔ میں دنیا کے بہترین اساتذہ سے سیکھنا چاہتا ہوں اور جدید ترین لیبارٹریوں میں اپنا تحقیقی کام جاری رکھنا چاہتا ہوں۔

میں نے چین میں اپنے ہم جماعت، اساتذہ اور دیگر لوگوں کے ساتھ جو وقت گزارا وہ میری زندگی کا بہترین وقت تھا۔ مجھے امید ہے کہ میں جلد ہی ان سب کو دوبارہ دیکھوں گا”۔

0Shares

Comments are closed.