حاصل اور لا حاصل کی تگ و دو

فہیم خان

محبت کتنا خوبصورت احساس ہے نا۔ یہ آپ کو ایک الگ، ایک دم نئی سی دنیا میں پہنچا دیتی ہے،،،،محبت زندگی کا وہ جذبہ ہے جسے بیشتر لوگ سب سے طاقتور جذبہ مانتے ہیں، ہم سب ہی اس کے خواہشمند ہوتے ہیں اور ہر جگہ آپ کو اس کا جلوہ نظر آتا ہے۔اور جب بات ہومحبت کی تو پھر کس کو اس سے انکار ہوسکتاہے۔

بس ہر ایک کا دیکھنے کا انداز مختلف ہے۔کسی کومحبت ہر حسین چہرے میں تو کسی کو خوبصورت لہجے، دلفریب سوچ، اچانک خیال، بے وجہ مسکراہٹ، بے ساختہ ہنسی، چمکتی آنکھوں، بے لوث احساس میں محبت دکھائی دیتی ہے۔محبت ہمیں جینے کا حوصلہ دیتی ہے.

وہ محبت جو کسی کے ہمت بھرے جملے میں ہوتی ہے، جو نرم لمس میں ہوتی ہے، جوش بھری تھپکی میں ہوتی ہے، خوبصورت مسکراہٹ میں ہوتی ہے، محبت کسی ایسے اپنے سے ہوتی ہیں جو دل کے قریب ہوتاہے جس سے اپنے دل کاحال بیان کرنے کامن چاہے۔

محبت یک طرفہ بھی ہوسکتی ہے اور دوطرفہ محبت بھی ،لیکن کسی سے خاموش محبت کرنا کوئی بہت بڑی بات نہیں مگر کسی سے محبت کرکے اسے بتا کر محبت کرنا کمال ہے۔ ہم میں سے اکثرعشق و محبت اور لاحاصل کی چاہ میں اپنی عمر کا انتہائی شاندار وقت برباد کردیتے ہیں۔

کسی کی فرسٹ چوائس ہونا نہ ہونا آپ کے اختیار میں نہیں ہوتا مگر کسی کی لاسٹ چوائس رہنا آپ کے اختیار میں ہے جو شخص آپ کو اچھا لگتا ہے ہوسکتا ہے آپ کے ملنے سے پہلے وہ ایک یا ایک زیادہ بار کسی کی محبت میں گرفتار رہ چکا ہو۔ اس پر آپ کا زور نہیں چل سکتا آ پ کسی کاماضی نہیں بدل سکتے ہاں یہ ضرور کرسکتے ہیں کہ آپ سے ملنے کے بعد اسے کسی اور سے ملنے کا شوق نہ رہے۔

یہ آپ کے اختیار میں ہے۔ خواہشات اور حسرت رکھنا برا نہیں ہے کسی نامحرم کے محرم ہونے کی دعا کرنا گناہ نہیں ہے۔ خواب دیکھنا جرم نہیں ہے ہم سب خواب دیکھتے ہیں کچھ حاصل ہوجاتے ہیں کچھ لاحاصل رہتے ہیں خواب دیکھنا حق ہے ہمارا۔باقی تو ا س رب المنان کی رضا ہے وہ پورا کرے یا ادھورا چھوڑ دے۔

ضرورتوں اور خواہشوں میں بس اتنا فرق ہوتا ہے ضرورت سب کی پوری ہوتی ہے۔ اور خواہشیں بادشاہوں کی بھی پوری نہیں ہوتیں کیونکہ ہمیں کبھی بھی نہ پتاچلتا کہ صبر کیا ہے ، دعا ، امید ، حوصلہ ،بھروسہ کیا ہے، دوستی محبت اور سارے رشتے کیا معنی رکھتے ہیں۔کسی کے دل کے اندر جو جھانک کر اس کا ہر خواب دیکھ سکے وہی اسکا اصل حقدار ہوتاہے۔

لیکن کسی کا بھروسہ جیت کر اس کا دل توڑنے والا انسان خود غرض یا پھر کوئی مطلب پرست ہی ہوسکتاہے۔جو صرف اپنے مطلب تک ہی اس کے ساتھ رابطے میں رہتاہے اور مطلب نکلتے ہی ایسے ہو جاتاہے جیسے وہ کوئی اجنبی ہو۔۔اگرآپ کسی کی محبت میں گرفتار ہوجائیں یا پھر کسی کو آپ سے محبت ہوجائے تو اس کی قدر کریں ناکہ اسے اتنانظر انداز کریں کہ اس کی چاہت اس کا روگ بن جائے۔

ایسے رویے سے اس کا تجسس ختم ہوجاتا ہے۔ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کے جواب میں صرف ٹھیک ہے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتے کہہ سکتے ہیں حالانکہ وہ کسی طرح سے بھی ٹھیک نہیں ہوتیں۔محبت کی کوئی حد نہیں ہوتی لیکن اس میں رابطے اور تعلق کابڑا اہم کردار ہوتاہے لیکن سچ کہا جائے تورابطہ ہی تعلق کی اصل بنیاد ہے آپ کچھ دن لوگوں سے رابطہ روک کردیکھ لیں۔

آپ کو اس کے دل میں اپنے مقام کاپتہ چل جائے گا آپ کو خود یقین آجائے گا کہ لوگ توکب سے اس انتظار میں تھے کہ رابطہ ٹوٹ جائے۔بس وہ پہل آپ کی طرف سے چاہتے تھے تاکہ بعد میں ان پر کوئی الزام نہ آئے میں یہاں صرف رابطہ روکنے کی بات کررہاہوں رابطے یاتعلق ختم کی نہیں.

چنددن ،ہفتے،مہینہ یاپھر دومہینے کاوقت درکار ہوتاہے اور لوگ تیسرے مہینے اپنے دل ودماغ سے آپ کو آپ کے نمبر سمیت ڈیلیٹ کردیتے ہیں۔تاہم یہاں رابطہ تو ختم ہوگیا لیکن اس تعلق کاکیاکریں گے آپ۔۔۔؟یعنی پھر سے یک طرفہ ہوجائے گا اورآپ کی سوچ میں آپ کی زندگی میں ساری عمر کے لئے ایک سوالیہ نشان بن جائے گا جس کاجواب
ڈھونڈنے میں آپ ہر بارناکام ہوجائیں گے۔!

کیونکہ محبت کسی ایسے شخص کی تلاش نہیں کہ جس کے ساتھ رہاجائے محبت توایسے شخص کو تلاش کرتی ہے جس کے بغیر نہ رہاجائے۔لیکن محبت کو پا لینا اور اسے پانے کی خواہش و چاہت کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ یعنی محبت کرنے کی سرشاری اسے حاصل کر لینے کی خوشی سے قطعاً مختلف ہے۔

سچی محبت میں محبوب کو پانے یا اس تک پہنچنے کی آرزو اور تمنا تو ہو سکتی ہے لیکن اسے اپنی دسترس میں کر لینے کا جنون نہیں۔ اور جب طلب دسترس بن جائے تو جستجو کا عمل رک جاتا ہے۔ لیکن کیاجائے ۔۔! اب ہر کوئی کھلے پنجرے میں طوطے کی طرح اپنی مرضی سے بیٹھے رہنے کا حوصلہ کہاں سے لائے۔

0Shares

Comments are closed.