پاکستان پر تنقید ہو تو خاموش نہیں رہ سکتے، آرمی چیف

راولپنڈی (زمینی حقائق ڈاٹ کام)آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کوئی پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنائے اس پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے، سازشیں کرنے والے وہی ہیں جو علاقائی امن میں رکاوٹ ہیں.

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول. میں فورتھ پاکستان بٹالین کو بٹالین پرچم عطا کرنے کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ توقع ہےکہ افغان سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہوگی، طالبان خواتین اور انسانی حقوق سے متعلق وعدے پورے کریں گے، آج کا پاکستان ترقی کرتا پاکستان ہے۔

جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی جیسے عظیم ادارے کی تعمیر و ترقی اور ارتقا میں ایک اہم سنگ میل ہے۔فورتھ پاکستان بٹالین نے5 سال قبل قیام سے اب تک شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کا شمار دنیا کے بہترین اداروں میں ہوتا ہے، آپ کا وطن کیلئے اپنے آپ کو وقف کرنے کا عہد، پاکستان دُشمنوں کے دلوں میں خوف کی علامت ہے.

آرمی چیف نے کہا تمام ترمشکلات کے باجود آج کا پاکستان اقوام عالم میں مضبوط اور ترقی کرتا ہوا پاکستان ہے، اگست کا مہینہ ہمیں آزادی کیلئے اپنے آباؤاجداد کی لازوال قربانیوں اور تاریخی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے، ہمارے محنتی جوان ہمارا فخر اور سرمایہ ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت ایک متحد قوم کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچا سکتی، ہر چیلنج کے بعد ہم مزید مضبوط بن کر ابھرے، ہم نے دہشتگردی پر قابو پا کر وطن کی سرحدوں کا بھرپور دفاع کیا.

ان کا کہنا تھا کہ روایتی جنگ ہو یا دہشتگردی کیخلاف رسپانس یا قدرتی آفات ہوں افواج پاکستان ہمیشہ قوم کے اعتماد پر پورا اُتری۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں بدامنی کی بھاری قیمت ادا کی ہے، پاکستان نے4 دہائیوں سے 30 لاکھ سے زیادہ افغانیوں کو پناہ دی، مسلسل عالمی برادری پر واضح کیا کہ وہ افغانستان کے پُرامن حل کیلئے کردار ادا کرے.

انھوں نے کہا کہ افغانستان امن عمل میں پاکستان کی مخلصانہ کوششیں خطے کے پرامن قیام کیلئے ہیں، پاکستان قومی اور علاقائی امن اور ترقی کا خواہاں ہے.

آرمی چیف نے واضح کیا کہ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوششوں پر خاموش نہیں رہ سکتے، یہ سازشیں کرنے والے وہی ہیں جو علاقائی امن میں رکاوٹ ہیں، ہم افغانستان میں امن اور استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے.

افغانستان میں امن خطے اور بالخصوص افغانستان کے لوگوں کیلئے اشد ضروری ہے، توقع رکھتے ہیں کہ طالبان خواتین اور انسانی حقوق کے عالمی برادری سے کیے وعدے پورے کریں گے، یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کے اس مہینے میں ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو نہیں بھول سکتے، مقبوضہ کشمیر کے لوگ بدترین ریاستی دہشتگردی اور استحصال کا شکار ہیں، یقین دلاتا ہوں پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہم ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

0Shares

Comments are closed.