ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ

پیرس(ویب ڈیسک)ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ،اب جون تک اہداف حاصل کرنے کا وقت دے دیا گیا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس پیرس میں 4 دن تک جاری رہا جس کے اختتام پذیر پر یہ فیصلہ سامنے آیا ہے اور پاکستان کو مزید 4 ماہ کیلئے گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے.

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے 2018ء میں
پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اس کے بعد سے نام نکالنے نکلنے کیلئے کئی اہداف دیئے گئے تھے۔

نجی ٹی وی چینل سماء نیوز نے وفاقی وزیر
حماد اظہر کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے حماد اظہر کہتے ہیں کہ پاکستان اکثر اہداف پورے کرچکا ہے۔

پیرس میں جاری 4 روزہ اجلاس میں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے دیئے گئے اہداف سے متعلق رپورٹ پیش کی تاہم جواب میں مزید جون تک اہداف کے حصول کا وقت دیا گیا.

رپورٹ کے مطابق اجلاس ميں پاکستان کے 5 ايکشن پلانز کا جائزہ ليا گيا، 4 ايکشن پلان منی لانڈرنگ اور ايک پلان دہشتگردی کی مالی معاونت سے متعلق معاملات شامل تھے۔

اس سے قبل اکتوبر 2021ء تک 27 میں 26 نکات پر پاکستان نےعمل درآمد کیا تھا، فیٹف نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ سے متعلق مقدمات میں تیزی لانے کا ہدف دیا تھا، اقوام متحدہ کے نامزد کردہ دہشتگرد عناصر کیخلاف کارروائی پر بھی زور دیا گیا تھا.

تاہم اب اجلاس کے اختتام پر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی کارکردگی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ ماہ وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے 28 شرائط تھیں، جن میں سے پاکستان نے 27 شرائط پوری کردی ہیں.

اٹھائیسویں نمبر کے شرط کے بھی کچھ نکات کو پورا کیا ہے، محض ایک شرط ہے وہ بھی ٹرانزیکشنل ہے، اس کے باوجود ہمیں جان بوجھ پر دباؤ کا شکار اور انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے.

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اور ملک اٹھائیس میں سے ستائیس شرائط پورا کرتا تو وہ کب کا گرے لسٹ سے نکل جاتا، ہمارے مخالف ملک سیاسی ایجنڈے کے تحت ہماری مخالفت کررہے ہیں.

0Shares

Comments are closed.