تین نعل اور گھوڑا

پروفیسر حافظ سجاد قمر

ارادہ،محنت ،لگن اور مسلسل جدوجہد وہ ہتھیار ہیں جو پہاڑ سے بھی نہر نکال لیتے ہیں۔
پس جب تم عزم کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔

بلڑخیل مرغز کے طالب علم نے جب ایک مربی سے سنا کہ تعلیمی ادارے بنانے چاہیے ہیں تاکہ ہم آنے والی نسل کی کردار سازی کر سکیں۔تو اس نے عزم کر لیا کہ وہ بھی ایک اسکول بنائے گا۔

اس نے اپنے ایک اور دوست کو ساتھ لیا اور ایک بزرگ کے پاس جا پہنچا۔
کہا ،شاہ صاحب ،میں اسکول کھولنا چاہتا ہوں ،آپ سے رہنمائی لینے آیا ہوں۔
شاہ صاحب نے پوچھا ،کتنی انویسٹمنٹ ہے۔
طالب علم نے پہلے اپنے دوست اور پھر شاہ صاحب کی طرف حیرت سے دیکھا اور کہا کہ انویسٹمںنٹ تو کوئی نہیں۔
شاہ صاحب ٹیک لگا کے بیٹھے ہوئے تھے۔سیدھے ہو کر بیٹھے اور کہا
” اچھا تو تمھارے پاس ایک نعل ہے۔تمہیں تین نعل اور گھوڑا چاہیے۔”

طالب علم کا عزم اور ارادہ پختہ تھا۔اس نے ہمت نہیں ہاری،تیشہ اٹھایا اور پہاڑ کھودنے چل پڑا۔پیہم جدوجہد،لگن ،مستقل مزاجی سے اپنا سفر جاری رکھا۔روزانہ 13 سے 14 گھنٹے وہ اپنے کام کو دیتا۔چھٹی اس نے اپنی لغت میں نہیں رکھی۔سوائے اس چھٹی کے ،جس دن اس کی شادی تھی۔

اس کا پھل بالآخر طالب علم کو مل گیا۔اس نے جس اسکول کی بنیاد رکھی تھی ،وہ نہ صرف کامیاب ہوا،بلکہ اس کی بے شمار شاخیں کھلیں اور تعلیمی بورڈ کی ساری پوزیشنیں بھی اسی کے کھاتے میں آ تی چلی گئیں۔اور کامیابی کے دروازے کھلتے چلے گئے۔

طالب علم جب ایک طرف اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھا اور دوسری طرف خالی ہاتھ ایک بہت بڑی عمارت کی بنیاد رکھ رہا تھا،تب اس کے ایک استاد نے اس کو کہا” تمھارے اندر سیاسی جراثیم ہیں۔تم ایک دن کسی بڑے منصب پر پہنچو گے۔

خالی ہاتھ طالب علم سن کر زیر لب مسکرا یا اور چل پڑا۔
وقت پر لگا کر اڑتا رہا ،تب ایک موقع آ گیا کہ طالب علم ملک کی تاریخ کا پہلا فرد بنا جو صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کے منصب سے قومی اسمبلی کے اسپیکر تک جا پہنچا۔

تب طالب علم کو اپنا استاد یاد آیا،کہ یہ وہی ہستی تھی جس کے الفاظ اس کے لیے مشعل راہ بنے اور ہر قدم پر اس کو آگے بڑھاتے رہے۔اور اس کو کہیں گرنے نہیں دیا۔
تب طالب علم سیدھا گاؤں میں اپنے استاد کے پاس جا پہنچا، استاد کا شکریہ ادا کیا کہ یہ راستہ آپ نے دکھایا تھا۔

آپ کی تربیت اور رہنمائی تھی جس نے مجھے یہاں تک پہنچایا۔اور پھر جب بھی طالب علم گاؤں جاتا ہے تو استاد سے ضرور ملتا ہے۔
یہ طالب علم موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر تھے۔

دو ہفتے ہونے کو آئے ،جب عاصم نے مجھے ایک ہفتے کی شام کہا کہ کل دن کو آپ تشریف لائیں اور اسپیکر صاحب سے مل لیں۔میں مقررہ وقت پر جب وہاں پہنچا تو گھر کی لابی ،ڈرائنگ روم علاقے کے لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔

ملاقات ہوئی،دل کے تارے چھیڑے اور پھر انھوں نے اپنی پرانی یادیں تازہ کیں۔بہت دیر تک سلسلہ چلتا رہا۔تب میں نے انھیں دعوت دی کہ یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور تشریف لائیں۔اور پھر اس طرح وہ بہت جلد سلیم رانجھا،اور ممبران قومی اسمبلی صالح محمد خان،ڈاکٹر حیدر علی ،جنید اکبر کے ساتھ یونیورسٹی تشریف لے آئے۔جہاں ابراہیم حسن مراد صدر جامعہ نے ان کا استقبال کیا۔

یونیورسٹی میں اساتذہ، ڈینیز اور چئیرمینز کے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے روایتی تقریر کی بجائے دل کی باتیں کیں۔اور کہا کہ میں بھی ایک تعلیمی شعبہ سے تعلق رکھتا ہوں ۔اگرچہ میں نہ تو کوئی سرمایہ دار تھا اور نہ ہی کوئی ماہر تعلیم،دوران تعلیم میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تھا۔

ایک پروگرام تھا،جس میں انجنئیر خرم مراد مرحوم نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں تعلیمی ادارے بنانے چاہیے ہیں تاکہ ہم وہ رجال کار مہیا کر سکیں جن کی معاشرے کو ضرورت ہے۔اور جو اس ملک کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی مملکت بنا سکیں۔

اور دوسرا نقطہ انھوں نے یہ بیان کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے کا ہر طبقہ ہمارے ساتھ چلے،جب تک بڑے پیمانے پر لوگ ہمارے ساتھ نہیں ہوں گے ہم کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔اس لیے آپ لوگ پاسبان کے پلیٹ فارم سے اپنا کردار ادا کریں۔اور تمام طبقات کو اپنے اندر سمو لیں۔

اسد قیصر بیان کر رہے تھے کہ اس دن میں نے فیصلہ کیا کہ یہ دونوں کام میں کروں گا۔
تب مجھے یاد آیا کہ مولانا ابو الکلام آزاد دہلی میں ایک مجمع سے خطاب کر رہے تھے کہ اس وقت جہاد کی تصویر بہت بگاڑ دی گئی ہے اور کیا ہی اچھا ہو کہ اگر کوئی اللہ کا بندہ اٹھے اور اسلامی جہاد کی صحیح تصویر پوری دنیا پر واضح کرے۔

اس مجمعے کے کسی کونے میں ایک نوجوان نے یہ سنا اور عزم کر لیا کہ یہ اللہ کا بندہ وہی بنے گا ۔اور پھر اس نے الجہاد فی الاسلام کے نام سے معرکتہ آلا را کتاب لکھی جس نے چار دانگ عالم شہرت حاصل کی۔یہ نوجوان مولنا سید ابوالاعلی مودودی رح تھے۔

اسد قیصر کہ رہے تھے کہ انھوں نے دوران تعلیم ہی پاسبان میں شمولیت اختیار کی اور پھر جدوجہد شروع کر دی۔اور ساتھ ہی اسکول کے لیے بھی تگ و دو کا آغاز کیا۔اور سینیٹر مراد علی شاہ صاحب سے ملا۔

تب انھوں نے کہا کہ تمھارے پاس ایک نعل ہے اور تمھیں تین نعل اور ایک گھوڑا چاہیے۔
اسد قیصر کی جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا شروع کردہ قائداعظم اسکول پورے صوبے میں نمایاں ترین مقام پر پہنچا۔

وہ بیان کر رہے تھے کہ میں نے استاد کے لیے کبھی اشتہار نہیں دیا ۔بلکہ مجھے کسی اچھے استاد کا پتہ چلتا تھا تو میں خود اس کے گھر جاتا تھا اور اس کو اپنے ساتھ کام پر آمادہ کرتا تھا۔

پیکج اس کی مرضی کا اور رزلٹ ہماری مرضی کا،یوں تنکا تنکا کر کے میں نے ٹیم جمع کی ۔اور اللہ نے مجھے اس کا ثمر دیا۔
وہ کہ رہے تھے کہ استاد سونا ہے۔

استاد کا معاشرے میں بہت بڑا مقام ہے۔آپ اس کو پیکج کے ساتھ نہ تولیں۔محنت ،لگن اور مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنائیں۔اپنی ذات سے نکلیں۔جب ذات سے نکلیں گے تب اللہ آپ کے ساتھ ہو گا۔جب استاد اپنے کام کے ساتھ انصاف کرتا ہے تو وہ عزت پاتا ہے۔

قدرت بھی اس کا ساتھ دیتی ہے۔معاشرہ بھی اس کو مقام دیتا ہے۔
خرم مراد مرحوم میرے استاد تھے۔آج یہاں آ کر میں نے ان کا کچھ قرض چکانے کی کوشش کی ہے۔آپ کی باتوں سے بڑے بڑے لوگ بنتے ہیں۔آپ لوگ بناتے ہیں۔

آپ اپنا مقابلہ یہاں کی کسی جامعہ کی بجائے کیمبرج اور ہارورڈ سے کریں۔علم مسلمانوں کی میراث ہے۔
مگر وہ علم کے موتی ،کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں، تو دل ہوتا ہے سی پارہ
ابراہیم حسن نے اضافہ کیا کہ یہ ڈگری کے اجراء کے موقع پر جو گاؤن پہنتے ہیں اور سرپر ٹوپی رکھتے ہیں۔یہ اسلامی روایت ہے۔جو مغرب نے اپنائی۔جب بغداد اور بصرہ علم کے مینار تھے تب یورپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔

پی ٹی آئی کی اکثریت وہ ہے جو فتح کے واضح آثار اور یقین دہانیوں کے بعد عمران خان کے ساتھ آئی لیکن اسد قیصر ان لوگوں میں سے ہیں جو اس جماعت کا نظریاتی سرمایہ ہیں۔

پاسبان کا پلیٹ فارم بند ہونے کے بعد اسد قیصر کو اپنے خوابوں کی تعمیر عمران خان کی صورت میں نظر آئی ۔اس سے قبل وہ شوکت خانم میموریل کی مہم میں عمران خان کا بھرپور ساتھ دے چکے تھے۔

چنانچہ 1996 میں وہ تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔پہلے ضلعی صدر اور پھر 2008 ء صوبائی صدر بنے اور سب سے طویل عرصہ صوبائی صدر رہے۔

2013 ء میں صوابی سے بیک وقت قومی اور صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے،قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی اور 30 مئی 2013 کو خیبر پختون خواہ اسمبلی کے 14 ویں اسپیکر منتخب ہوئے۔

دوران عرصہ انھوں نے حکومت اور اپوزیشن کو اچھا چلایا۔پبلک اکاونٹس ،قانون ساز ،آئینی اصلاحات کی تین کمیٹیوں کے بھی چئیرمین رہے۔

خیبر پختون خواہ پہلی مقننہ قرار پائی جو مکمل طور پر ای اسمبلی قرار پائی۔
2018 ء میں اسد قیصر دوبارہ قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبر بنے، ان کی جماعت نے ان پر اعتماد کیا۔اور انھیں قومی اسمبلی کا اسپیکر بنانے کا فیصلہ ہوا۔

اور یوں 15 اگست 2018 ء کو وہ قومی اسمبلی کے اکسویں اسپیکر منتخب ہوئے اور اب تک کی تاریخ میں پہلے شخص ہیں جو صوبائی اسمبلی کی اسپیکر شپ ختم ہونے کے متصل بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔

اسلام آباد کا ایوان پشاور سے یکسر مختلف تھا۔اسپیکر کا کام بالعموم اپوزیشن کو سنبھالنا ہوتا ہے۔لیکن پی ٹی آئی کے زعماء نے چوں کہ طویل عرصہ کنٹینر پر گزارا ہے اس لیے شاید ابھی تک وہ اس کیفیت سے نکل نہیں پائے۔
ہر دور حکومت میں اپوزیشن کا رویہ سخت ہوتا ہے۔جبکہ حکومت والے کسی قدر نرم ہوتے ہیں۔اور ذمہ داران حکومت کو نرم ہی ہونا چاہیے۔لیکن یہاں سیر اور سوا سیر والی کیفیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ایوان کے نگہبان کے طور پر اسد قیصر کو ہوتا ہے۔

قید میں موجود ممبران قومی اسمبلی کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے تو حکومت ناراض،اور اگر نہ جاری کریں تو اپوزیشن ناراض ،تاہم ان کی بھرپور کوشش ہے کہ بچ بچا کے اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔

اب تک سعودی عرب،برطانیہ،ایران،ترکی،امریکہ،ساوتھ افریقہ،اور متحدہ عرب امارات کے پارلیمانی دورے کر چکے ہیں۔میڈرڈ میں چار روزہ انٹر پارلیمنٹری یونین کے 143 ویں اجلاس میں پاکستانی وفد کے ہمراہ شرکت کر چکے ہیں۔

اسلم بیگ کہتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق کہتے تھے کہ اقتدار کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں۔یہ سب کے ساتھ ہوتا ہے۔لیکن اسد قیصر ایک سیلف میڈ انسان ہیں۔بہت سارے تعلیمی اور رفاہی منصوبے رکھتے ہیں۔

ابراہیم حسن مراد نے انھیں تجویز دی کہ اس وقت سب پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔لیکن حکومت کی ان تک رسائی نہیں۔اسد قیصر وفاق کی علامت بھی ہیں وہ اس کام کو اگر اپنے ذمہ لیں اور اسکولوں، کالجوں، جامعات کے طلبہ حوالے سے ایک مربوط لائہ عمل بنائیں۔

اس کا بہت فائدہ ہو گا۔اسی طرح انھوں نے تجویز کیا کہ چھوٹے صوبے بنائے جائیں۔اس سے گورننس کا مسئلہ حل ہو گا۔کراچی،لاہور، پشاور،کوئٹہ کو وفاق کے تحت رکھا جائے اور باقی سب نئے صوبے بنائے جائیں۔

میں بھی اس تجویز کا حامی ،اور ایک عرصہ سے برسر پیکار ہوں کہ ہمارے علاقے ہزارہ سمیت ہر جگہ نئے صوبے بنائے جائیں۔

ارادہ، محنت،لگن اور مسلسل جدوجہد وہ ہتھیار ہیں جو پہاڑ سے بھی نہر نکال لیتے ہیں۔پس جب تم عزم کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔

0Shares

Comments are closed.