حضرت مولانا مفتی محمد حسین چشتی رحمتہ اللہ علیہ

0
1 0
Read Time:3 Minute, 32 Second

قمر زمان تنولی

حضرت مولانا مفتی محمد حسین چشتی ۰۱۹۱ ٰ کو دریائے سرن کے کنارے گاؤں جونیاں ضلع ایبٹ آبادمیں ایک زمیندار گھرانے کے فرد سمندرخان کے گھر پیدا ہوئے۔
حصول علم : آپ نے ابتدائی ناظرہ قرآن پاک مقامی علما ئے کرام سے پڑھا اور پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔ابتدائی دینی تعلیم حضرت مولانا محمد اسحاق خطیب ہزارہ سے جامع مسجد ایبٹ آباد سے حاصل کی اس کے بعد بھوئی گاز ٹیکسلا کے علمائے کرام حضرت مولانا محب النبی سے پڑھتے رہے۔پھر دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں حضرت مولانا پیر دیدار علی شاہ محدث الوری اور آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا ابوالبرکات سید احمد شاہ مفتی اعظم پاکستان پڑھا اور حضور شیخ الاسلام وال مسلمین خواجہ خواجگان فاتح قادیان حضرت پیر سید مہر علی شاہ گیلانی گولڑوی کی خدمت میں رہ کر اکتساب کیا۔

یوں آپ نے ایبٹ آباد بھوئی گاڑ ٹیکسلا،حزب احناف لاہور، دربار عالیہ گولڑہ شریف اسلام آباد وغیرہ میں تمام علوموفنون کی تکمیل اور آپ کے برادر اصغر حضرت مولانا محمد شعیب سلیمانی مرحوم کے بقول حضور تاجدار گولڑہ کے حکم پر آپ دورہ حدیث شریف کے لئے امام اہلسنت مجدد دین وملت کے آستانہ عالیہ دارالعلوم منظرالاسلام بریلی ہندستان تشریف لے گئے اور وہاں حضرت مولانا سردار احمد قادری محدث اعظم پاکستان صدر الشرعیہ حضرت مولانا مفتی امجد علی اعظمی حجتہ الاسلام حضرت علامہ مولانا عابد رضا خان مفتی اعظم ہند وغیرہ سے دورۂ حدیث شریف پڑھ کر بریلی شریف سے سند اشراغ،فضیلت کی اور وطن واپس تشریف لائے۔
آپ دوران تعلیم ہی حضرت سید خواجہ پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمتہ اللہ کے دست حق پرست پر سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں شرف بیعت حاصل کر چکے تھے۔

فراغت کے بعد آپ جب ہندوستان سے وطن تشریف لائے تو حضرت غزالی زماں رازی دوراں حضرت علامہ سعید کاظمی رحمت اللہ علیہ کے حکم پر آپ مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں تدریس کرتے رہے اس کے بعد اپنے پیر بھائی شیخ القرآن حضرت علامہ عبدالغفور ہزاروی رحمتہ اللہ علیہ کے حکم پر آپ کے مدرسہ جامعہ غوثیہ وزیرآباد میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے جب آپ اپنے آبائی گاؤں تشریف تو حضرت علامہ پیر محمد طیب الرحمان چھوہروی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آپ دارالعلوم اسلامیہ ہری پور پڑھانے کے لیے تشریف لائیں مگر آپ نے علاقائی عذر پیش کر کے معذرت کر لی۔

آپ تحریک پاکستان اور تحریک ختم نبوت ۳۵۹۱ کے زبردست کارکن تھے۔تحریک آزادی ۷۴۹۱ اور ر تحریک ختم نبوت ۳۵۹۱ میں آپ اپنے استاد محترم حضرت علامہ ابوالبرکات سید احمد شاہ مفتی اعظم پاکستان اور پیر بھائی شیخ القرآن حضرت علامہعبدالغفور ہزاروی رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ آپ نے جہاں جہاں تدریس کی وہیں پنجاب کے مختلف شہروں میں امامت و خطابت بھی کرتے رہے اپنے آبائی
گاؤں جونیاں کی جامع مسجدمیں ۵۵۹۱ سے تادم وصال ۵۹۹۱ تک چالیس سال تک امامت و خطابت کی خدمات انجام دیں اور علاقہ کی کئی مساجد میں نماز جمعہ کا اجراء کرایا آپ مرکزی جامعہ مسجد بیڑ ہری پور میں خطابت کرتے رہے۔


آپ کے چار بیٹے تھے،الحاج محمد صدیق،الحاج عبدالستار مرحوم،الحاج محمداشرف مرحوم،الحاج مولانا پروفیسر نثار احمد حسین سلیمانی اسلامک سنٹر کراچی کر فارغ التحصیل اور ام القریٰ یونیورسٹی سعودی عرب دورہ حدیث کیا آپ فاضل عالم دین اور ایک اچھے بہترین خطیب ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے بزرگوں کا حقیقی جانشین بنائے۔

آپ ۴۷۹۱ میں پہلی بار حج بیت اللہ کے لئے بحری جہاز کے ذریعے حرمین شریفین تشریف لے گئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حاضری کی سعادت حاصل کی اس کے بعد آپ دوبارہ اپنے بیٹے پروفیسر مولانا نثا ر احمد حسین سلیمانی کے ہمراہ ۴۸۹۱ میں عمرہ کے لئے حاضری دی۔

آپ بوقت ضرورت علاقے میں فتویٰ نویسی بھی کرتے تھے اور لوگوں کے شرعی مسائل میں رہنمائی بھی کرتے تھے۔علاقے کی کچی سڑکوں کو لوگوں کے ساتھ مل کر پختہ کیامختلف مقامات پر مساجد میں نماز جمعہ کا اجراؑکروایا۔اپنے خاندان کے کئی افراد اور علاقے کے لوگوں کے حصول علم کا شوق وجذبہ دلا کر دینی مدارس بھیجا۔

آپ معمولی بیمار ہوئے ایبٹ آباد ہسپتال میں ڈاکٹر کے پاس لایا گیا دوسرے دن ۹ستمبر ۵۹۹۱ بروز ہفتہ ۵۸ سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔اور یوں جونیا ں گاؤں ضلع ایبٹ آباد میں آسودہ خاک ہوئے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
en_USEnglish