مسلسل محنت سے معاشی بحالی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوگئے ،وزیراعظم

فائل:فوٹو

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کے بیج جڑ پکڑنا شروع ہوگئے ہیں، پرخلوص محنت، دیانت داری اور سچائی ثمر لا رہی ہے۔ قائد محمد نوازشریف کے تعمیر، ترقی اور عوام کی خوش حالی کے وڑن پر ایک بار پھر عمل پیرا ہیں۔

اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 2231 پوائنٹس کے غیرمعمولی اضافے کے ساتھ کاروبار کے آغاز اور نیا ریکارڈ قائم ہونے قوم اور کاروباری برادری کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ہماری مسلسل محنت اور درست پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی بحالی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قائد محمد نوازشریف نے معاشی ترقی، مہنگائی میں کمی اور پاکستان کی تعمیر وترقی کا سفر جہاں چھوڑا تھا، وہیں سے دوبارہ آغاز ہو رہا ہے۔ الحمدللہ! ملک دوبارہ ترقی کے راستے پر گامزن ہو چکا ہے۔ شدید مایوسیوں کے بعد اْمید کا نیا سورج طلوع ہو رہا ہے۔قوم کو مبارک ہو ۔

شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدے اور 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے نتیجے میں سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کا اعتماد تیزی سے بحال ہو رہا ہے۔ خدا کرے کہ پاکستان کی ترقی کا سفر یوں ہی جاری رہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے بیج جڑ پکڑنا شروع ہوگئے ہیں، پرخلوص محنت، دیانت داری اور سچائی ثمر لا رہی ہے۔ قائد محمد نوازشریف کے تعمیر، ترقی اور عوام کی خوش حالی کے وڑن پر ایک بار پھر عمل پیرا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح 2013ء سے 2018ء کے درمیان پاکستان کو توانائی کے بحران، دہشت گردی اور دیگر مسائل سے نجات دلائی تھی، معاشی ترقی لائے تھے، ایک بار پھر اسی جذبے سے پاکستان کو ترقی کی راہ پر لارہے ہیں۔ قومی ترقی اور معاشی استحکام کے سفر کو اسی سمت اور اسی جذبے و محنت سے جاری رکھنا ہو گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جس طرح نوازشریف کی قیادت میں سی پیک کا آغاز کیا، معیشت بحال کی، مہنگائی 4 فیصد اور کھانے پینے کی اشیا کی شرح 2 فیصد پر لائے تھے، ترقی کی شرح 6.1 فیصد اور پالیسی ریٹ ساڑھے 6 فیصد پر تھا، اب دوبارہ ترقی کے اسی سفر کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب زراعت، آئی ٹی، صنعت سمیت دیگر تمام شعبوں میں ترقی کا سفر تیز ہو گا۔ پھر عوام کو مہنگائی سے نجات دلائیں گے، نوجوانوں کو روزگار، کاروبار اور معاشی خودمختاری سے ہم کنار کریں گے۔

Comments are closed.