ننگرہار،امریکی فوج نے 2 فوجی ہلاک ،6 زخمی ہونے کی تصدیق کر دی

14
0 0
Read Time:1 Minute, 51 Second

فوٹو : فائل اے ایف پی

ننگرہار(ویب ڈیسک)امریکی فوج نےگزشتہ روز افغانستان میں افغان اہلکار کی فائرنگ سے دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور چھ کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

اس حوالے سے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کو مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار میں رات گئے اس وقت پیش آیا جب امریکی اور افغان کمانڈو نے ضلع شیرزاد میں ایک اہم آپریشن میں حصہ لیا۔

امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ نے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حالیہ رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ افغان فوج کی وردی میں ملبوس ایک شخص نے مشین گن سے امریکی اور افغان مشترکہ فورسز پر فائرنگ کی تھی.

واقعہ کے بعد صوبہ ننگر ہار کے گورنر شاہ محمود میاخیل نے صحافیوں کو بھیجے گئے ایک آڈیو بیان میں بتایا ہے کہ حملے میں تین افغان اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ واقعہ کسی ’درانداز‘ کا دانستہ فعل یا محض ایک حادثہ ہے، میاخیل کا مزید کہنا تھا کہ یہ فورسز کے درمیان تصادم نہیں تھا، ہم تحقیقات کر رہے ہیں۔

امریکی فوج کے ترجمان لیگیٹ نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ اس حملے کا مقصد فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا ہے۔
امریکی فوج کے ساتویں سپیشل فورسز گروپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ اس کے کئی اہلکار افغانستان میں ہونے والے حملے میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

نیٹو کے مطابق افغانستان کے صوبہ قندھار میں امریکی فوجیوں پر ایک اور حملہ ہوا ہے جس میں دو فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق صوبائی پولیس کے ترجمان جمال ناصر نے بتایا کہ فوجی کندھار ایئر پورٹ کے قریب گشت کر رہے تھے کہ ان پر حملہ ہو گیا جبکہ طالبان ترجمان ذبیع الدین مجاہد میں ایک ٹویٹ جا ری کی ہے جس میں لکھا ہے کہ ’حملے میں گاڑی میں موجود تمام فوجی مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بگرام میں کئے گئے طالبان کے حملے میں ایک امریکی فوجی مارا گیا تھا۔ افغان جنگ کے دوران اب تک 24 سو امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »