میرا جسم میری مرضی۔ اخلاق باختہ ریلی

67
0 0
Read Time:5 Minute, 3 Second

 

اخلاقیات کسی مذہب قوم و معاشرے کی بنیادی اساس ہے جو اقوام اخلاقی گراوٹ کاشکار ہوجائیں تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور اس کا نام بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھاگیا۔ جس کا مطلب ومقصد اسلامی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے، آزادانہ طریقے سے حقوق وفرائض کے توازن کو برقراررکھتے ہوئے سب کو زندگی گزارنے کا حق تفویض کرنا ہے۔

دشمن جن اقوام کے جذبہ ایمانی کو جنگ کے ذریعے شکست نہ دے سکیں وہ انہیں اخلاقی لحاظ سے کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں حقیقت میں کوئی قوم اس وقت تک زوال پذیر نہیں ہوتی جب تک اس قوم کی عورت زیور حیا سے مزین اور مرد غیرت شمشیر کے ضامن ہوں۔ عورت کی حیا اور مرد کی غیرت ابتداء سے ہی انسانی جبلت میں شامل ہے۔

جب تک گمراہ کن تصورات وترغیب سے ان کی فطرت کو نہ بدل دیاجائے مرد بے غیرت اور عورت بے حیا نہیں ہوتی۔ عور ت کی آزادی کا دلفریب نعرہ مشرقی اقدار کے خلاف مغرب کا اہم پروپیگنڈا ہے جسے منصوبہ بندی سے استعمال کرکے مشرقی اقدار کو پامال کیاجارہا ہے ۔

حیا کا پیکر عورت آزادی کی خواہش میں اپنی روایات کوچھوڑ  کر، اپنے محفوظ حصار کو توڑ کر انجان راہوں کی راہی بننے کیلئے پرتول رہی ہے ۔مغربی ایجنڈے پر گامزن غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی این جی اوز حقوق نسواں کے سلوگن کے ساتھ معاشرے میں بے حیائی کا زہرپھیلانے میں کوشاں ہیں

، آزادی کا نعرہ لگا کر کہیں جنسی بے راہ روی کی ترغیب دی جا رہی ہے تو کہیں ہم جنس پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔مغرب زدہ طبقے نے معاشرتی اقداروروایات کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں ۔چند دن قبل مغربی روایات کی دلداہ خواتین نے آزادی کے نام پر وفاقی دارالحکومت میں ایک ریلی نکالی۔

ریلی میں آزاد خیال اور مغربی نظریات پر کار بند خواتین شرکاء نے مختلف پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر” میرا جسم میری مرضی ”،”یہ چادر ،چار دیواری گلی سڑی لاش کو مبارک”، ”کھانا خود گرم کرو” جیسے نعرے درج تھے ۔جوآزاد خیال خوا تین کے پس منظراوران کے مقاصد کو مکمل طورپرواضح کررہے تھے۔

در حقیقت خواتین کوآزادی دلوانے کا جھانسہ دے کر انہیں شرم وحیا سے عاری اور مذہب وروایات سے دور کیاجارہا ہے۔ آزادی کیا جسم کی نمائش میں ہے یا اپنے جائز حقوق کے حصول میں؟این جی اوز کی آزادی کی تحریک اصل میں خاندانی نظام کی تنزلی،عزتوں کی پامالی، ممتا کے قتل اور بیوی کی گمشدگی کی تحریک ہے۔اسی مہم کے تسلسل میں اب مختلف تقریبات منعقد کرکے مردوخواتین کی برین واشنگ کا کام شروع ہوچکا ہے۔

اسلام آباد کے نجی ہوٹلوں میں این جی اوز اپنے مذموم پروپیگنڈے میں مشغول ہیں۔گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت میں این جی اوز کے زیراہتمام ہونے والی ایسی ہی ایک تقریب میں سرعام خواتین کو شتر بے مہارآزادی اور مردوں کو غیرت سے دستکش ہونے کی ترغیب دی گئی۔

تقریب میں خاندانی نظام کو نشانہ بنایا گیا، بزرگوں کے عزت وا حترام اور شوہر کے مقام کو بے توقیر کرنے کی تبلیغ کی گئی،چادر اور چار دیواری کو قید اور پردہ دار خواتین کو دقیانوسی کہہ کر نفرت کا اظہارکیاگیا۔بے پردگی،بے حیائی اور جسم کی نمائش کو عورت کا حق قرار دیاگیا۔

”میرا جسم میری مرضی ”دراصل حکم الہی کی خلاف ورزی ہے۔ڈالروں کی چمک نے مغرب زدہ خواتین کو اخلاقیات سے عاری کردیا ہے ۔وہ آزادی اور بے حیائی کے درمیان تفریق کو بھول چکی ہیں۔

ان کااصل ہدف مستقبل کی مائیں ہیں وہ اپنےمغربی آقائوں کو خوش کرنے اور ان کے دیئے گئے ٹارگٹ کو پورا کرنے کیلئے مائوں کواخلاقیات سے دور کررہی ہیں ان سے اچھے برے کی پہچان چھین رہی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ اچھی مائیں اچھی قوم کی ضامن ہوتی ہیں اخلاق سے بے بہرہ مائیں کیسے قوم کی تشکیل کریں گی یہ سوچ ہی سوہان روح اور بحیثیت مسلمان قوم ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

غور طلب پہلو تو یہ ہے کہ یہ بے لگام این جی اوز وفاقی دارالحکومت میں مغربی پروپیگنڈے کے فروغ میں مصروف ہیں مگر ریاستی ادارے بے خبر اور خواب غفلت میں مدہوش پڑے ہیں۔ ان کا چیک اینڈ بیلنس کہیں نظر نہیں آرہا۔ حکومت کو چاہیے کہ بے لگام این جی اوز کی رجسٹریشن کرتے ہوئے صرف خانہ پری نہ کی جائے بلکہ ان کے ایجنڈے ومقاصد کا باریک بینی سے جائزہ لیاجائے۔بعدازاں بھی ا ن کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا مربوط نظام وضع کیاجائے۔

جواین جی اوز معاشرے کی تبا ہی و بربادی اور نوجون نسل کی رگوں میں بے حیائی کازہر شامل کرنے میں کوشاں ہوں ان کی رجسٹریشن منسوخ کرکے ان کی اخلاق باختہ سرگرمیوں پر پابندی لگادی جائے ۔مذہب واخلاقی روایات کے پاسدار تمام افراد چاہے وہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہوں ان پر کڑی ذمہ داری عائد ہوچکی ہے کہ وہ مغربی بے حیائی کی جنگ کے خلاف صف آراء ہوں اور نوجوان نسل اور خواتین کو ان کے زہریلے پروپیگنڈے سے محفوظ رکھنے کے لئے ہر سطح پر آواز بلند کریں۔

سیاسی جماعتوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسمبلی کے فلور پر خواتین کو بے راہ روی کی طرف گامزن کرنے والوں کے خلاف اقدامات اٹھانے کیلئے لائحہ عمل طے کریں۔

علامہ اقبال نے عشروں قبل معاشرے میں پھیلنے والے زہر کا تریاق بتا دیا تھا۔
اک زندہ حقیقت میرے سینے میں ہے مستور
کیاسمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد
نے پردہ نہ تعلیم نئی ہو کہ پرانی
نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
en_USEnglish