خواجہ آصف نے اچانک 2سچ بول دیئے

0
0 0
Read Time:1 Minute, 59 Second


اسلام آباد (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے اپنے اوپر لگے الزامات کی وضاحت میں دو سچ بول دیئے، ہاں الیکشن کی رات آرمی چیف سے رابطہ ہوا تھا۔ یہ سچ بھی بول دیا کہ شہباز شریف سے ملاقات کی ہے لیکن یہ نہیں پتہ ملاقات کس نے ارینج کی تھی۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ الیکشن کی رات میں نے آرمی چیف کو فون کال نہیں کیا بلکہ میں نے انہیں واٹس ایپ پر فارم 45 کی تصاویر بھیجی تھیں ۔

انھوں نے وضاحت یوں کی کہ ہمیں فارم 45 سفید کاغذات پر مل رہے تھے جو جعلی تھے، ان کی تصاویر آرمی چیف کو بھیجی تھیں، جس پر ان کا جواب آیا تھا کہ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے رات 8 بجے نہیں بلکہ رات 3 بجے میسجز بھیجے تھے لیکن تب تک جو دھاندلی ہونی تھی ہو چکی تھی، اس وقت پولنگ سٹیشن پر اندر باہر آرمی کے نوجوان تھے ، اس صورتحال میں چیف الیکشن کمشنرکو تو نہیں بھیج سکتا تھا، آرمی چیف کو ہی بتانا تھا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ آرمی چیف نے آئی ایس آئی میس کے ڈنر میں اسمبلی اراکین کی موجودگی میں جب یہ کہا کہ خواجہ آصف نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے ان کی تب ہی تصحیح کر دی تھی کہ ایک تو میں نے 8 بجے فون نہیں کیا، دوسری بات میں نے میسجز کیے تھے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ میں کبھی اسٹبلیشمنٹ سے رابطے میں نہیں رہا، اور خصوصاَ موجودہ اسٹیبلیشمنٹ میں کسی سے رابطہ نہیں۔ جن سے رابطے ہیں وہ ریٹائر لوگ ہیں اور ان سے 1969 سے تعلق ہے۔ سینیئر صحافی حامد میر نے خواجہ آصف سے گفتگو کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی شیئر کی ہے۔

ایک اور ٹی وی پروگرام میں اس سوال پر کہ شہبازشریف سے جیل میں لیگی رہنماوں کی ملاقات سلمان شہباز کی طے کردہ تھی کے جواب میں پہلے انھوں نے کسی کرنل کا نام لیا پھر کہا کس نے طے کی تھی یہ مجھے نہیں پتہ ہے۔

واضح رہے پی ٹی آئی کی طر ف خواجہ آصف پر آرمی چیف کو الیکشن کی رات آرمی چیف کو ٹیلی فون کرنے اور شہباز شریف سے سلمان شہباز کی طے شدہ ملاقات کا بھی اعتراف کیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
en_USEnglish