خالد المعینہ کی قونصل جنرل آف پاکستان خالد مجیدسےملاقات

12
0 0
Read Time:1 Minute, 42 Second

جدہ (شاہ جہاں شیرازی) جدہ میں قونصل جنرل آف پاکستان خالد مجیدسے بین الاقوامی شہرت یافتہ سعودی سیاسی و میڈیا تجزیہ کار، صحافی  اور چیئرمین عربی روزنامہ البلاد خالد المعینہ نے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران دونوں نے باہمی دلچسپی کے امور خصوصا پاک سعودی میڈیا تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

خالد مجید نے قونصلیٹ میں خالد المعینہ کاخیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے مابین رابطوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید تقویت بخشی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک سعودی تعلقات کی جڑیں ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہی ہیں۔

انہوں نے میڈیا تعلقات کو مستحکم کرنے اور دونوں ممالک کی میڈیا انڈسٹریز کے مابین خبروں کے تبادلے کے بارے میں المعینہ کے خیالات و نظریات کا خیرمقدم کیا۔ خالدمجید نے سعودی عرب میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے سعودی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام زائرین کرام اور شہریوں کی عمومی صحت کے تحفظ کے لئے سعودی حکومت کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ جو کہ ایک احسن قدم ہے۔ اس موقع پرخالد المعینہ نے کہاکہ روایتی پرنٹ میڈیا اب ڈیجیٹل کائنات میں تبدیل ہوکر ہر شخص کے ہاتھوں میں ایک طاقتور آلہ بن گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صحافیوں کی نوجوان نسل کو اس تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ ذمہ داری سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی پاک تعلقات ہر طرح سے غیر معمولی رہے ہیں اور دونوں برادر ممالک کے مابین میڈیا تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی میڈیا کے مابین باہمی تعاون کے کام ہو رہے ہیں اور ان تعلقات کو مزید تقویت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ المعینہ نے کراچی یونیورسٹی میں طالب علم کی حیثیت سے اپنے خوشگوار پرانے دنوں کو بھی یاد کیا۔

یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے خالد المعینہ کو 2008 میں، بطور ایڈیٹر ان چیف عرب نیوز، پاک سعودی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے ستارہ امتیاز سے نوازا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »