بھارت کا خلائی مشن ایک بار پھر فیل ہوگیا، مودی آگ بگولہ، اربوں روپے ڈوب گئے

15
0 0
Read Time:1 Minute, 53 Second

نئی دہلی(ویب ڈیسک) خلائی تحقیق کے بھارتی ادارے ’’اِسرو‘‘ (ISRO) کی جانب سے چاند کے مخالف حصے کی طرف بھیجے گئے مشن ’’چندریان 2‘‘ کا زمینی اسٹیشن سے رابطہ منقطہ ہوگیا ہے۔

خیال کیا جارہا ہے کہ یہ مشن ناکام ہوچکا ہے۔ اس مشن پر 978 کروڑ بھارتی روپے لاگت آئی ۔

چاند گاڑی (مون لینڈر) ’’وکرم‘‘ نے چاند کی سطح پر اترنا شروع کیا تو صرف 2100 میٹر کی اونچائی رہ جانے پر اچانک ہی اس کا رابطہ زمینی مرکز سے منقطع ہوگیا۔

اس کے بعد سے اب تک چندریان 2 کا رابطہ منقطع ہے۔ اس بارے میں اندازہ یہی ہے کہ چندریان 2 مشن ناکام ہوچکا ہے۔

اِسرو کے زمینی مرکز میں موجود نریندر مودی سے یہ ناکامی برداشت نہ ہوئی اور وہ کسی سے بات کیے بغیر فوراً ہی وہاں سے چلے آئے۔

واضح رہے کہ زمین کے گرد چاند اس انداز سے گردش کرتا ہے کہ ہمیشہ اس کا صرف ایک رُخ ہماری طرف رہتا ہے جبکہ دوسرا رُخ ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ اس کیفیت کو سائنسی اصطلاح میں ’’ٹائیڈل لاک‘‘ کہا جاتا ہے۔

چندریان 2 مشن کا مقصد، چاند کے اس حصے پر اُتر کر وہاں کا جائزہ لینا تھا جو زمین سے مخالف سمت میں ہے اور ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس خلائی مشن کی ناکامی کے بارے میں کچھ بھی کہنا مشکل ہوگا۔

22 جولائی 2019 کو روانہ ہونے والا ’’چندریان 2‘‘ اسپیس مشن 20 اگست 2019 کو چاند کے گرد اپنے مقرر کردہ مدار میں داخل ہوا۔ بھارتی وقت کے مطابق اس کے مون لینڈر ’’وکرم‘‘ کو رات ڈیڑھ بجے سے ڈھائی بجے کے درمیان چاند کے جنوبی قطب پر اُترنا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ چندریان 2 سے پہلے چاند کی طرف بھیجے گئے درجنوں مشن ناکام ہوچکے ہیں جن میں سے 16 ایسے تھے جو اپنے آخری مراحل پر ناکامی کا شکار ہوئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بھارت کا چاند مشن بظاہر ناکام ہوگیا ہے، وہ چاند کے قطب جنوبی پر لینڈنگ کرنے والا پہلا ملک بننا چاہتا تھا۔ اس سے قبل 2008 میں بھی بھارت کا چاند مشن ناکام ہوگیا تھا جب کہ امریکا، روس اور چین چاند کی سطح پر کامیاب لینڈنگ کرچکے ہیں ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *