پلازمہ تکنیک سے کورونا کا علاج

12
0 0
Read Time:6 Minute, 56 Second

ولید بن مشتاق مغل

سوشل میڈیا پر کورونا کے علاج کے نت نئے  ٹوٹکوں نے دماغ چکرا کر رکھ دیا ہے۔ کہیں تربوز کہیں خربوز کہیں الائچی کہیں چائے سے وائرس کا علاج ہو رہا ہے ۔پیری فقیری بھی چمکی ہوئی ہے اور دم درود و” شف” سرکار بھی علاج میں مصروف ہیں۔ کورونا کا نہ سہی سرطان کا علاج  تو پھونکوں سے ہی ہو رہا ہے ۔ اور  تو اور ایک ساتھ ہزاروں مریضوں کا آپریشن کے بغیر شرطیہ لاوڈ اسپیکر پرپھونکوں سےعلاج، یہ تو بس پاکستان کا ہی خاصہ ہے۔ انگریز تو ابھی ہم سے کہیں دو چار سو سال پیچھے ہیں۔

خیر سننے میں آیا ہے کہ کورونا کے مریضوں کا علاج پلازمہ ٹیکنیک سے کیا جائے گا ۔پاکستان میں بھی ایک ڈاکٹر صاحب نے یہ طریقہ کھوج نکالا ہے۔ یوں تو چائنہ سے بھی اس طریقہ کار کی تصدیق ہوئی تھی اور ایف ڈی اے (امریکہ) نے بھی اس طریقہ کار کی منظوری دی تھی کہ یہ آزمایا جائے شاید کوئی کامیابی مل جائے۔ پاکستان میں اس حوالے سے ایک نام ڈاکٹر شمسی کا لیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے دنیا میں سب سے پہلے کورونا کا علاج ڈھونڈ نکالا۔

یہ خبر کو سن کے دلی مسرت ہوئی، فورا  انکا  نجی ٹی وی پر دیا گیا  ایک انٹرویو سنا جس میں محترم بتاتے ہیں کہ 2 ہزار کورونا کے صحت یاب مریضوں کا پلازمہ لیا جائے گا جس کے لیے مالی انتطامات ہو گئے ہیں، لیکن ابھی تک پلازمہ نہیں لیا گیا۔ یعنی کوئی عملی کام یا کسی مریض پر اس کا تجربہ نہیں ہوا (کم از کم ڈاکٹر صاحب نے تو اپنے اس کارنامے کا ذکر نہیں کیا) ۔ ڈاکٹر صاحب سےاینکر نے سوال کیا کہ پلازمہ کہاں سے آئے گا؟ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ پاکستان میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کا پلازمہ جمع کیا  جائے گا.

ساتھ ہی اعداد و شمار بھی بتائے کہ کتنے مریض صحت ہوئے قریبا پنجاب اور سندھ سے ڈاکٹر صاحب نے  آئیں بائیں کر کے ایک سو کا ہندسہ پورا کیا ۔ پلازمہ لینے کا منصوبہ اور ڈاکٹر صاحب کو کنفرم صحت یاب مریضوں کی تعداد بارے بھی علم نہیں، بات جمی نہیں ۔ خیر ہو سکتا ہے اس وقت انہیں واقعی معلوم نہ ہو۔یہاں مجھے خیال آیا کہ یہ تو آسان کام ہے۔مکمل اعداد و شمار تو  نیشنل کمانڈ  اینڈ کنٹرول سے مل سکتے ہیں جو کہ ہر شہری کی رسائی میں ہے۔

نیشنل کمانڈ سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ابھی تک اس وائرس کا شکار ہونے والے 58 مریضوں کے صحت یاب ہونے کی تصدیق  ہوئی ہے،ان مریضوں کو بھی ابھی قرنطینہ میں ہی رکھا جائے گا  جس کا دورانیہ عام طور پر 14 دن ہوتا ہے ۔اس کے بعد ہی ان مریضوں کومکمل طور پر صحت یاب قرار دیا جا سکے گا ۔یعنی کم از کم دو ہفتے اور گزرنے کے بعد ہی یہ مریض صحت یاب تصور ہونگے۔ تب تک ان مریضوں کے پلازمہ کو بھی استعمال اس لیے نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں وائرس موجود ہونے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

  اینکر نے پھر سوال کیا کہ ڈاکٹر صاحب  چائنہ سے بھی پلازمہ منگوانے کا سن رہے ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے فورا تردید کی کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔  نہ کبھی  چائنہ میں اس بارے بات کی نہ ہی کوئی منصوبہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے  ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ وہاں سے پلازمہ پہلے جمع کرنا اور پھر امپورٹ کرنا کافی وقت لے گا کم از کم  2ہفتےلگیں گے۔

یہاں پھر دماغ چکرا گیا کہ اول پاکستان میں کل مریض ہی 2 ہزار ہیں، مکمل صحت یاب بھی چند ایک ہی ہونگے، چائنہ سے بھی پلازمہ نہیں آ رہا! تو یہ سب ہو کیا رہا ہے۔ عوام کیوں مارے خوشی کے ناچ رہی ہے جب کہ ابھی تک تو کچھ بھی ہاتھ نہیں آیا ۔ آگے ڈاکٹر صاحب نے لمبی چوڑی تقریر صرف مالی امور پر کی کہ زکوۃ کے پیسے نہیں ہیں، حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں، دوستو کی معاونت ہے وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ہی بتایا کہ انکے ادارے سے تیار پلازمہ کی کوئی قیمت وصول نہیں کی جائے گی۔ 

ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ چند ضروری سامان بھی منگوانا ہے جس کے لیے ٹیکس استثنی کی درخواست دیں گے ۔یہاں ایک لمحہ کو سوچ ہوئی کہ کب پاکستان میں دو ہزار مریض ٹھیک ہونگے اور انکا پلازمہ لیا جائے گا دوسرا جب دو ہزار ٹھیک ہونگے تو بیمار کتنے ہونگے ۔ ابھی تک کے اعداد و شمار کے مطابق حساب لگایا جائے تو دو ہزار بیمار اور قریبا 58 سے 60 ٹھیک ہیں ۔ یہی صورتحال رہی تو دو ہزار سیمپلز لینے تک  بیماروں کی تعداد خدانخواستہ 70ہزار کے لگ بھگ ہو چکی ہو گی.

جتنی احتیاط ہماری عوام بتا رہی ہے تعداد خطرناک حد تک زیادہ بھی ہو سکتی ہے، پھر ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا پلازمہ تکنیک سے علاج ایک آزمائشی بنیادوں پر ہو گا یا  یہ باقاعدہ  علاج ہو گا؟ اسکا جواب ملنا ابھی باقی ہے۔ مجھے ڈاکٹر صاحب کی کاوشوں پر کوئی شک نہیں کیونکہ بہت کم ہی ایسے واقعات سننے کو ملتے ہیں۔ لیکن جب ایک پاکستانی نے اتنا انوکھا کام کر دکھایا ہے تو تجسس ہو رہا ہے کہ  حکومت کیوں گونگی بہری بنی ہوئی ہے؟

فورا سے پہلے وزارت صحت اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی  ایچ) ڈاکٹر شمسی کی خدمات کو قومی سطح پر کیوں نہیں حاصل کر رہے، بلاشبہ اسے ایٹم بم کی ایجاد سے بڑا معرکہ سمجھ کر ڈاکٹر کو قومی ہیرو نامزد کیا جانا چاہیے، کیوں یہ ادارے یا  وزیر اعظم صاحب جنھیں عوام کا بہت احساس ہے اور اتنا  احساس ہے کہ ہر چند روز میں خطاب کر کے بتاتے ہیں کہ انہیں عوام کا بہت احساس ہے، اعلان کرتے کہ میرے پاکستانیو! ہم جیت گے ہم نے علاج ڈھونڈ لیا اور جلد آپ سب بھی  ٹھیک ہو جائیں گے۔

بس حکومت آپکا پلازمہ سے علاج کا بندوبست کر رہی ہے اور آپ سارے چند روز میں چنگے بھلے ہو جائیں گے، کلوروکوئین دوا  کی آَزمائشی طور پر منظوری دینے کے وقت ایف ڈی اے  حکام کے ساتھ ٹرمپ خود کھڑا تھا ۔امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ ہمیں کچھ کامیابی کی امید ہے اور اس دوا کی آزمائشی بنیاد پر منظوری دے رہے ہیں تاکہ جلد اس وائرس کا علاج ممکن ہو سکے! اور کوئی ویکسین بن جائے ۔ ٹرمپ تو مشہور ہے کہ وہ سرپھرا ہے.

لیکن ہمارے وزیر اعظم تو عوام کا درد رکھنے والے ہیں، پتہ نہیں کیوں اعلان نہیں کیا؟؟ کیونکہ اعلان ہوتا تو یقینا ڈاکٹر صاحب کی دریافت سے مستفید ہوتے ہوئے ہمارے قومی ادارے بڑے پیمانے پر اس پلازمہ کا بندوبست کر لیتے اور کورونا کے لقمہ اجل مریضوں کو بچا لیا جاتا۔ زندگی پھر سے مسکرانے لگتی اور کسی ایک کونے میں بیٹھا کورونا افسردہ ہوتا اور گاتا  جاتاکہ ” اڑ جا رے پنچھی کے اب یہ دیس ہوا بیگانہ۔

یا پھر گلی کے نکڑ پر  شریر بچے  مسٹر کورونا کو دھکے مار رہے ہوتے اور گاتے جاتے کہ’ یہ گلیاں یہ چوبارہ یہاں آنا نہ دوبارہ’۔ دوسرا سوال جو مریض ہیں انکے لیے پلازمہ لگ جائے گا لیکن جو لاک ڈاوں میں ہیں انکا کیا؟؟ انکو تو یہی ڈر ہو گا کہ پتہ نہیں کورونا جی کس کونے میں انکی تاک میں چھپے بیٹھے ہوں۔ اب سارے پاکستان کو کورونا تو لگانے سے رہے۔ اور یہ بھی مشکل لگتا ہے کہ سب مریضوں کے ٹھیک ہونے پر یہ وائرس مکمل طور پر ختم ہو چکا ہو.

کہا جا رہا ہے یہ ایئر بورن ہے یعنی فضا میں موجود ہے اور آس پاس کی چیزوں پر بھی ہو سکتا ہے ایسے میں اس سے کیسے جان چھڑائیں۔ صحت مند کدھر جائیں۔ کوئی دوا دارو. کوئی ٹوٹکا وظیفہ انکے لیے بھی ہے یا پہلے وہ مریض بنیں پھر پلازمہ لگوائیں۔ ویکسین نام کی کوئی نعمت بھی دریافت ہو گی یا یہ خطرہ ہمارے سروں پر منڈلاتا رہے گا کہ بابو باہر نہ جائیو ورنہ کورونا آ جائے گا۔

حکومت کی جانب سے تو جواب کی امید نہیں ہے لیکن قارئین میں سے کوئی دوست اب اس حوالے سے معلومات رکھتا ہو تو عوام کو ضرور بتائے کیونکہ ہمیں تو کچھ پتہ نہیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے؟

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »