مسجد الحرام کے داخلی راستوں پر جراثیم کش دروازے نصب

0
0 0
Read Time:1 Minute, 45 Second

فوٹو: حرمین ٹوئٹر

مکہ مکرمہ(زمینی حقائق ڈاٹ کام) عالمگیروباء کوروناوائرس سے بچنے کیلئے مسجد الحرام کے داخلی راستوں پر دیدہ زیب جراثیم کش دروازے نصب کردیئے گئے ہیں جس کے بعد امید کی جارہی ہے کہ پابندیاں نرم اور مسجد الحرام آنے والوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔

سعودی عرب کی الحرمین الشریفین کے انتظامی امور کی ذمہ دار جنرل پریزیڈنسی نے مسجد الحرام کے داخلی راستوں پر جراثیم کش دروازے نصب کرنے کے بعدحرمین ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان جاری کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پریذیڈنسی نے مسجد الحرام میں جدید سیلف اسٹیرلائزیشن یعنی خود کار جراثیم کش دروازے نصب کرنے کا عارضی تجربہ کیا ہے، اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو انھیں مسجد الحرام کے دیگر حصوں میں بھی لگائیں گے۔

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق اب مسجد الحرام کے صحن میں داخل ہونے والے تمام افراد کو پہلے جراثیم کش گیٹ سے گزرنا ہوگا، وہاں اس پر سر تا پاؤں جراثیم کش اسپرے کیا جائے گا، مسجدالحرام میں ان دروازوں کی تنصیب سے صرف ایک ہفتہ قبل تھرمل کیمرے نصب کیے گئے تھے ۔

یہ بیک وقت 25 تک افراد کے جسمانی درجہ حرارت کی پیمائش کر سکتے ہیں، انھیں بھی مسجد الحرام کے داخلی دروازوں پر نصب کیا گیا ہے۔
اس ماہ کے اوائل میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اسی طرح کے تھرمل کیمرے نصب کیے گئے تھے۔

یاد رہے گزشتہ ماہ کے آخر میں خانہ کعبہ کو کورونا سمیت دیگر جراثیم سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید ترین اوزون ٹیکنالوجی کی مدد سے غلاف کعبہ، حجر اسود اور مقام ابراہیم کی صفائی بھی کی گئی تھی۔

اس سے پہلے سعودی عرب میں کورونا وائرس کی وجہ سے بیت اللہ شریف کے طواف کے لیے محدود افراد کو داخلے کی اجازت تھی اور خانہ کعبہ کے گرد حفاظتی حلقہ بنایا گیا ہے جب کہ اس سے قبل حفاظتی اقدامات کے تحت مطاف کو بند کر دیا گیا تھا۔

سعودی عرب میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد32 ہزار سے زائد ہوچکی ہے جب کہ اب تک 219 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »