شناخت برائے فروخت

51
0 0
Read Time:9 Minute, 6 Second

محبوب الرحمان تنولی

لکھنے کے خبط میں مبتلا ہونے کے باوجود میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ متنازعہ موضوعات سے دور رہا جا ئے۔ بالخصوص اس ریڈ زون میں داخلے سے اجتناب برتا جو افراد کو جوڑنے کی بجاہے توڑنے یا تفریق پیدا کرنے کا سبب بنتا ہو۔

اسلام آباد میں دس سالہ فرشتہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ نے مجھ سمیت بہت سے لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے میرا سرکار سے کو ہی تعلق ہے نہ سرکاری اداروں سے۔ لیکن میں اپنی جگہ شرمندہ شرمندہ سا ہوں کہ یہ واقعہ میرے شہر میں پیش آیا اور میں بے بسی کی تصویربنا ہوا ہوں۔

حکومتوں اور سسٹم کو ہم اکثر کوستے ہیں اب بھی میرے پاس سینکڑوں دلیلیں اور مشورے موجود ہیں نظام کی درستگی کے لیے لیکن مجھے اگر آفس پہنچنا ہے اور میں لیٹ ہوں تو میں ہر ریڈ سگنل پر کھڑا ہونا ضروری نہیں سمجھتا، بس ہم میں یہی خرابی ہے ہم خود ضابطوں کی پابندی کی بجائے اپنے لیے دلیل اور سہولت ڈھونڈ لیتے ہیں۔

مجھے یہ سطور لکھنے پر سرگرم ابھرتے ہوئے صحافی رضوان غلزئی نے اکسایا ہے۔ میں کل سے رضوان کی فیس بک وال پر پشتون، پشتین، افغانی پاکستانی کی لفظی بحث دیکھ رہا ہوں۔ ایک بار خیال آیا کہ میں بھی اپنی رائے دوں لیکن موضوع اتنا وسیع ہے کہ دو چار جملوں سے تشنگی ختم ہوتی نہ دلیل۔

فرشتہ کے ساتھ پاکستان کی پوری قوم کھڑی ہے ارکان پارلیمنٹ، صحافی، فنکار، سیاسی و مذہبی تنظیمیں ادارے حتی’ کہ کراچی اور کوئٹہ سے لوگ اسلام آباد آکر متاثرہ خاندان سے یکجہتی کا اخلاقی فریضہ بجا لا رہے ہیں ایسے میں چند لوگ فرشتہ فیملی کو صرف ایک طبقہ تک محدود کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

کشیدگی کی اسی کیفیت نے ہمارے کچھ بھا ئیوں کو بحث میں الجھا رکھا ہے دلیل دینے والوں کا مزاج بھی برہم ہے اور تصیح کرنے والوں کے لہجے میں بھی تلخی ہے۔ بات سمجھانے کے لیے مد مقابل کی حثیت اور مقام تسلیم کر کے پھر بات کرنے والے کی بجا ئے اس کی بات پر غور کر تے ہیں۔

کسی اور کے حوالے سے بات آگے بڑھانے سے پہلے میں اپنی وضاحت ضروری سمجھتاہوں کیو نکہ موضوع آباواجداد اور ماضی سے متعلق ہے اورانسان بنیادی طور پرماضی پرست واقع ہواہے جہاں پیدا ہوتا ہے بچپن گزارتا ہے اور وہاں حالات اچھے نہ بھی ہو ں تب بھی عمر بھر ان دنوں کے سحر میں مبتلا رہتا ہے۔

اسی طرح آباواجداد اور قوم قبیلوں سے جڑے رہنے سے جہاں محبتیں بڑھتی ہیں وہاں وطن کی مٹی سے وفا کا گہرا رشتہ بھی استوار رہتا ہے، تنولی ہزارہ ڈویژن کی پہچان اور ملک بھر میں آباد ہیں لیکن حقیقت میں یوسفزئی افغان ہیں جو افغانستان سے درہ تانال کے راستے کئی سو سال پہلے ہجرت کر کے پاکستان آ ئے تھے۔

درہ تانال کے راستے جمرود آکر آباد ہو ئے تو مقامی لوگ ان کو تانالی کہتے تھے پھر تانالی سے تنولی نام پڑ گیا۔ پھر سوات چلے گئے وہاں سے سکھوں کو شکست دے کر ہزارہ ڈویژن کے علاقے تناول میں آباد ہو ئے ، اس لیے اگر قومی و نسلی اعتبار سے بات کی جا ئے تو تنولی بھی افغان ہیں لیکن اپنے بڑوں نے ہمیں صرف مسلمان اورپاکستانی کی شناخت دی ہے۔

اسی شناخت کو لے کر ہمارے باپ دادا نے قیام پاکستان کے وقت صوبہ سرحد کے پاکستان کے ساتھ الحاق میں بھی بھر پور کردار ادا کیا اور جب افغانستان پر روس نے چڑھائی کی تو ہمارے لوگوں نے افغانستان جا کر روس کے خلاف جہاد بھی کیا یہ جہاد بطور مسلمان ایک مسلمان ریاست کے لیے تھا افغان ہو نے کی وجہ سے نہیں۔

آج بھی جب افغانی آپس میں بر سرپیکار ہیں غیر مسلموں کا عالمی اتحاد بھی کبھی طالبان کو مارتا ہے اور کبھی غلطی کہہ کر افغان سکیورٹی فورسز پر، کبھی شادی کی تقاریب پر کبھی جنازوں پر بمباری کر تا ہے تو ہماری بے چینی اور دکھ دامن گیر ر ہتا ہے۔

ایران کیخلاف امریکی دھمکیوں پر بھی پاکستانی یقینا” رنجیدہ ہیں ،دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان ظلم کا شکار ہیں پاکستان کے عوام درد محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے، کسی کو میری اس دلیل سے اختلاف ہو تو پھر وہ کسی بھی مسجد میں چلا جاہے جمعہ کی نماز کے بعد آ ئیمہ صاحبان کی دعاہیں سن لے۔

ایسے میں جب ہم دنیا بھر کے لیے تڑپ اور درد رکھتے ہیں ہم میں سے اٹھ کر ہمارے ہی بھائی خود کو تقسیم کیوں کرتے ہیں؟ پاکستانی کی بجائے افغانی ہونے پر زور کیوں دیتے ہیں؟ جب آپ کو حق حاصل ہے کہ آپ تڑامڑی چوک بیٹھ کر احتجاج کریں، ہم سب آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں احتجاج میں شریک ہیں پھر خود کو تقسیم کر نے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟


کوئی بھی زی شعور شخص کسی کو اس کے آباواجداد یا قوم کا نام لینے سے نہیں روکتا۔میں افغان ہوں یہ اعتراف کرنے سے مجھے کون روک سکتا ہے؟ لیکن مجھے یہ بھی فخر ہے میرے باپ دادا نے پاکستان بنایا ہے اس مٹی سے وفا میری پہلی ترجیح ہے۔

جس بھی ریاست میں رہیں نا انصافی بھی ہوتی ہے، کبھی ظلم بھی، لاپتہ کی فہرست میں بھی آجاتے ہیں لیکن اپنا وطن سمجھ کر حق مانگا بھی جاتا ہے حق چھینا بھی۔ لیکن شناخت صرف اپنی مٹی ہی ہوتی ہے شناخت برائے فروخت نہیں ہو تی۔

رضوان غلزئی صاحب پشتون ہوں یا پشتین یہ ہمارے بھائی ہیں ان کو باور کراہیں ہم نسلا” جو بھی ہوں بحثیت مسلمان اور پھر پاکستانی ہم ایک ہیں ہم پر پہلا حق پاکستان کا ہے اس کے بعد کسی کی باری آتی ہے ،ہمیں آپ کے افغانی، داوڑ، وزیر یا کسی قبیلے سے ہونے پر اعتراض ہے نہ ہو سکتا ہے لیکن ہاں ہمیں اس بات پر اعتراض ہوتا ہے جب اپنی سر زمین کسی اور کی وکالت شروع کردی جائے۔

جب ڈرون حملوں میں ہمارے قبائلی بے گناہ بھا ئی، بچے بزرگ اور خواتین شہید ہوتے تھے تو پاکستان کے کو نے کونے سے احتجاج بھی ہوتا تھا، ریلیاں بھی نکلتی تھیں، میڈیا بھی امریکی ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا تھا اس لیے کہ آپ اور ہم الگ نہیں ہیں۔اس کے بر عکس سرحد پار سے تو ہم نے کبھی اس وقت کے فاٹا پر ڈرون حملوں کے خلاف کوئی آواز اٹھتے سنائی نہیں دی۔بلکہ وہ تو بتاتے تھے کہ ادھر بھی مارو۔

کیا آپ کو عجیب نہیں لگتا کہ آپ کی نیوز بی بی سی، وی او وی، انڈیا اور پاکستان میں فساد دیکھنے کے خواہش مند ادارے ہی کیوں چلاتے ہیں۔ یقینا” پشتین کہلانے والے نوجوانوں میں شعور کی کمی نہیں ہے لیکن آپ نے سوچ کو صرف ایک طرف محدود کیوں کر دیا ہے آپ اپنے ملک میں اپنی شناخت بنیں۔

مانسہرہ میں بھی اور خاص کر ایبٹ آباد کے نواحی قصبے قلندر آباد میں افغانیوں کی ایک ایسی نسل آباد ہے جو 1979 میں روسی حملہ کے بعد پاکستان ہجرت کر کے آئے تھے ان کے بچے یہاں پیدا ہو ئے۔ جوان ہو ئے اب وہ مقامی لوگوں کے ساتھ گھل مل گئے ہیں۔ غم خوشی میں شریک ہیں رشتہ داریاں بھی بن گئی ہیں آج تک وہ تعصب کا نشانہ بنے نہ انھوں نے خود کو تقسیم کیا حالانکہ اگر ایسی تفریق کی کوئی بات بنتی ہے تو یہ آواز وہ اٹھاتے کہ وہ افغانی ہیں۔۔ ہم اور آپ تو افغان تھے اب پاکستانی ہیں۔

تلخ لہجے رکھیں نہ کو ئی اور آپ سے تلخ سوال کرے۔ جب آپ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ بھی پاکستان کے آئین اور قانون کو مانتے ہیں تو پھر ایک گھر میں رہ کراسی کو شناخت بھی بنائیں۔۔ فرض کریں ابدالی، غوری، بابر میزاہل کی شناخت آپ کے مشورے پر ختم کر دی جا ئے تو کیا وہ افغانی آپ کو افغانستان میں آباد ہونے کی اجازت دیں گے؟ جن کے حوالے سے آپ دلیلیں دے کر نفرت کے بیج بو تے ہیں آپ کو تو کوئی پھٹکنے بھی نہ دے ۔۔ یہ پیار محبت صرف تب تک ہے جب تک ان کی لائن لینتھ کو فالو کررہے ہیں ذرا یہ لہجہ ادھر اختیار کرکے آزمائیں تو سہی ۔ آپ کو کوئی افغان سرزمین پر افغانی نہیں بننے دے گا۔

ہر گز ایسا ممکن نہیں ہے وہ کبھی بھی ایک انچ زمین آپ کو دینا بھی گوارہ نہ کریں گے رہنا تو دور کی بات ہے، اس لیے جس مٹی سے وفا کا تقاضا ہے وہی نبھاہیں آپ ہم سے الگ نہیں ہم آپ سے الگ نہیں ہیں، ریاست ماں ہوتی ہے اور اچھے بچے ماں سے لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

ابدالی، غزالی اور غوری کو ہم افغانی نہیں بلکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے یاد رکھے ہو ئے ہیں ایسے حجاج بن یوسف، یوسف بن تاشقین اور ایسے متعدد اور سپہ سالار۔ وہ مسلمانوں کی پہچان اور شناخت بنے۔ ۔۔ اورجو شناخت بیچتے ہیں۔۔ ان پر میر جعفر اور میر صادق کے لیبل لگ جاتے ہیں انھیں پھرتاریخ بھی اچھے الفاظ میں یاد نہیں رکھتی۔

ہم سب اللہ اور رسولﷺ کے ماننے والے ہیں حضرت محمدﷺ نے خطبہ حجة الوداع واضح پیغام دیا اور مسلمانوں کو تفریق سے منع فرمایا تھا۔ اسلام شناخت سے منع نہیں کرتا لیکن نفرتیں اور تفرقے پیدا کر نے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ ۔اللہ پاک نے بھی بہترین مسلمان کیلئے جو راستہ بتایا ہے وہ یہی ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ ہی ہے جو زیادہ پر ہیز گار ہے۔

ایک لمحے کے لیے میں تصور کر لیتا ہوں آپ کی دلیل میں وزن ہے آپ درست کہہ رہے ہیں آپ پر پیسے لے کر شناخت بیچنے کا الزام لگایا جا رہا ہے لیکن اس الزام کو تقویت تب ملتی ہے جب احتجاج میں آپ کے ساتھ سب بیٹھے ہوں مزاکرات کرنے والے سارے افسر پشتون ہوں،فرشتہ کے ملزمان پشتون نکل آہیں آپ حقاہق دیکھنے کی بجا ئے پھر قومیت کا نعرہ لگاہیں اور اداروں اور ریاست کے خلاف بولنے لگ جاہیں۔

صرف پاکستان نہیں دنیا بھر میں ایسے گروہ موجود ہیں جو شناخت کے نام پر پیسے لے کر دوسروں کے لیے استعمال ہو تے ہیں۔۔ شاہانہ زندگیاں بسر کرتے ہیں۔۔ فاہیوسٹار ہوٹلوں میں رہتے، بڑی بڑی لگژی گاڑیوں میں گومتے ،جہازوں پر سفر کر تے ہیں۔۔دنیا کی ہر آسا ئش ان کو مل جاتی ہے لیکن سکون ملتا ہے نہ شناخت۔ ۔

وہ اس لیے کہ جو لوگ صرف چمک کے لیے وطن کی مٹی کی وفا اور شناخت چھورتے ہیں پھر ان کی عمریں شناخت ڈھونڈنے میں خرچ ہو جاتی ہیں۔ اپنے محور اور مرکز سے جڑے رہنا ہی شناخت ہے۔ سب سے پہلے مسلمان پھر پاکستانی اس سے بڑھ کر اور شناخت اور کیا ہو سکتی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *