لاہور، پولیس تشدد سے ایک اور ہلاکت، پوسٹ مارٹم میں تشدد کی تصدیق

2
0 0
Read Time:1 Minute, 49 Second

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور میں پنجاب پولیس کے تشدد سے نوجوان عامر مسیح کی ہلاکت کی سی سی ویڈیو منظر عام پر آ گئی اسی واقعہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی نوجوان پر تشدد کی تصدیق بھی ہو گئی ہے۔

یاد رہے تین ستمبر کو لاہور پولیس کی حراست میں عامر مسیح نامی نوجوان انتقال کر گیا تھا جس کا الزام اہلخانہ نے پولیس اہلکاروں پر عائد کیا تھا اور احتجاج کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تشدد کے بعد طبیعت خراب ہونے پر 2 پولیس اہلکار عامر کو موٹر سائیکل پر اسپتال لائے، کچھ دیر بعد اسے وہیل چیئر پر اسپتال سے باہر لائے اور آن لائن ٹیکسی میں بٹھا کر لے گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی جی پنجاب کے نوٹس پر ایس پی انویسٹی گیشن کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جب کہ تفتیشی افسر ذیشان اور مفرور 5 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

عامر مسیح کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی سامنے آ گئی ہے جس میں جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عامر مسیح کے دونوں ہاتھوں اور پاؤں جبکہ کمر اور بازو پر بھی تشدد کے نشانات تھے پسلیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں۔

ترجمان پنجاب حکومت شہباز گل کا جیو نیوز کے ایک پروگرام میں کہنا ہے کہ پولیس ریفارمز کا ڈرافٹ تقریباً مکمل ہو چکا ہے، دو تین ہفتوں میں اس حوالے سے فیصلہ ہو جائے گا۔

شہباز گل نے کہا پولیس ریفارمز میں پولیس حراست کے دوران تشدد کے واقعات کا سدباب کیا جائے گا اور زیر حراست ملزمان پر تشدد کی روک تھام کے لیے نگران ادارہ بنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل رحیم یار خان میں بھی پولیس کی حراست میں اے ٹی ایم سے چوری میں ملوث ملزم صلاح الدین کی بھی موت واقع ہوئی تھی۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقع کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا۔ یہ محکمہ پولیس میں روایت بنی ہوئی ہے جرم کے بعد تبادلے اور پھر تحقیقات کے نام پر معاملہ دبا دیا جاتا ہے.

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *