!قانونی انتقام

30
0 0
Read Time:5 Minute, 31 Second

ْْشمشاد مانگٹ

جمہوریت بہترین انتقام ہے یہ تھیوری پیپلزپارٹی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد عوام کو ٹھنڈا کرنے کیلئے دی تھی۔ پیپلزپارٹی نے عملی طور پر اس اصول اور نظریہ سے بھرپور استفادہ کیا اور ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ بارے جو ثبوت اور شہادتیں اکٹھی کی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں نے جمہوریت کے ذریعے عوام سے بھرپور انتقام لیا۔

آصف علی زرداری کے اس کامیاب ”جمہوری انتقام“ کے اصول کو مسلم لیگ (ن) نے بھی بہت اچھے طریقے سے استعمال کیا اور مسلم لیگ (ن) کے جمہوری دور میں آصف علی زرداری کے خلاف کئی مقدمات بنائے گئے جنہیں آج آصف علی زرداری بھگت رہے ہیں۔ جمہوریت بہترین انتقام کا اصول اب ہماری اسٹیبلشمنٹ نے بھی پوری طرح اختیار کرلیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) پانامہ پیپرز کے پیچھے بھی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ قرار دیتی رہی ہے اور پھر سپریم کورٹ سے نااہلی کے فیصلے کو بھی اسٹیبلشمنٹ کا ہی کاری وار قرار دے چکی ہے۔

جمہوریت بہترین انتقام کے اصول کو اگر بغور پرکھا جائے تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اب اجتماعی طور پر یہ تسلیم کر چکی کہ اسٹیبلشمنٹ انہی کے اصولوں کے ذریعے ان سے انتقام لے رہی ہے۔ احتساب عدالت کے باہر لیگی کارکنوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نعرے بازی کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان کی قیادت کو اسٹیبلشمنٹ کے انتقام کا سامنا ہے اسی طرح محترمہ مریم نواز کے ٹوئیٹ بتا رہے ہیں کہ وہ بھی میاں نواز شریف کے خلاف فیصلے کو مقتدر قوتوں کے اشارہء ابرو کا شاخسانہ قرار دے رہی ہیں۔

پاکستانی سیاست کا اگر مجموعی تجزیہ کیا جائے اور مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پیپلزپارٹی کا بیانیہ دیکھا جائے تو یہی لگتا ہے کہ ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ بھی اب یہ طے کر چکی ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ جنرل ایوب بہترین کام کرنے کے باوجود بھی تاریخ میں آمر کے طور پر ہی یاد کئے جاتے ہیں اور جنرل ضیاء الحق روس کے ٹوٹے ٹوٹے کرنے کے باوجود ایک غیر قانونی حکمران کے طور پر ہی جانے گئے اور پھر سب سے بڑھ کر جنرل پرویز مشرف سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر بھی آرٹیکل 6 کی زد میں آگئے اور اب خود ساختہ جلا وطنی پر مجبور ہیں۔

ملٹری اسٹیبلشمنٹ تقریباً دس سال بعد پی پی مسلم لیگ (ن) پارٹنر شپ توڑنے میں کامیاب ہوئی اور اب اس نے بھی اصول طے کرلیا ہے کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔ ماضی قریب میں جنرل پرویز مشرف کو عدالتوں نے جتنا بھی ریلیف دیا اسے عالمی طور پر مشکوک نظروں سے دیکھا گیا اور میاں نواز شریف اسی وجہ سے دوبارہ سیاست میں زندہ ہوئے کیونکہ جنرل پرویز مشرف کے دورمیں میاں نواز شریف کو عدالتوں کے ذریعے دی گئی سزاؤں کو انصاف کے تقاضوں سے متصادم قرار دیا گیا۔
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ماضی میں یہ سہولت میسر رہی کہ اسٹیبلشمنٹ کی براہ راست کارروائیوں نے انہیں دنیا بھرمیں مظلوم بن کر پیش ہونے کے مواقع دیئے اور دنیا نے ان کی بات سنی اور پھر جمہوریت کے نام پر ان کے لئے عالمی قوتوں نے جدوجہد بھی کی۔

اس بار میاں نواز شریف اور پیپلزپارٹی سیاسی گرداب میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور جب دونوں پارٹیاں اپنے خلاف کارروائیوں کو اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں تو پی ٹی آئی کی جمہوری حکومت ڈھال بن جاتی ہے اس لئے اب ہونے والے عدالتی فیصلوں اور نیب یا ایف آئی اے کی تفتیش کو عالمی دنیا کسی آمر کی کارروائی ماننے کو تیار نہیں ہے بلکہ عالمی دنیا ان کارروائیوں کو نہ صرف قانونی تسلیم کرتی ہے بلکہ عمران خان کی کرپشن کے خلاف 22 سالہ جدوجہد کا آئینہ دار بھی قرار دیتی ہے۔

پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں میمو گیٹ سکینڈل نے یہ راز کھول کر رکھ دیا تھا کہ پیپلزپارٹی اسٹیبلشمنٹ سے جمہوریت کے ذریعے انتقام لینے کے لئے خاطر کس حد تک جاچکی ہے اور میمو گیٹ سکینڈل ابھی بھی سپریم کورٹ میں زیر گردش ہے اس کے بعد مسلم لیگ (ن) نے ڈان نیوز سکینڈل کے ذریعے جمہوری انتقام کے لئے اپنے ارادوں کو بے نقاب کیا اور پھر اس پر نہ صرف سٹینڈ لیا بلکہ میاں نواز شریف نے اقتدار بدری کے بعد اسی صحافی کو انٹرویو دے کر ثابت کیا کہ ان کے اندر جمہوری انتقام کی آگ ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ (ن)نے عام انتخابات سے پہلے اور بعد میں سڑکوں پر جو ریلیاں نکالیں وہ جمہوری انتقام کی ہی آئینہ دار تھیں۔

گزشتہ روز احتساب عدالت کے جج جناب ارشد ملک نے پی ٹی آئی کی جمہوری دور میں میاں نواز شریف کو قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں۔ ملک میں عمران خان کی جمہوری حکومت موجود ہے لیکن مسلم لیگ کے کارکن عدالت کے باہر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ماتم کررہے تھے اور مریم نواز کے لگاتار جاری کئے گئے ”ماتمی“ ٹوئیٹ بتا رہے تھے کہ انہیں کس سے گلِہ ہے۔ گزشتہ دنوں میجر جنرل آصف غفورنے پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں سے درخواست کی تھی کہ وہ چھ ماہ تک اچھا اچھا کی رپورٹس دیں پھر ملک ترقی کی شاہراہ پر چڑھ دوڑے گا۔ میڈیا نے ان کی اپیل پر دھیان دیا یا نہیں البتہ سب نے یہ نتیجہ ضرور اخذ کیا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ موجودہ حکومت کی خیر خواہ ہے۔

میاں نواز شریف کی سالگرہ سے ایک روز پہلے احتساب عدالت نے انہیں سزا اور جرمانہ کی سزائیں دے کر ثابت کیا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ اسی شام کو وزیر اطلاعات فواد چوہدری آصف علی زرداری کے بے نامی اکاؤنٹس کی تفصیلات قوم کو بتا رہے تھے ان کا بھی مجموعی تاثر یہی تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ پہلے براہ راست اقتدار پر قبضہ کرکے نیک نامی کم اور بدنامی زیادہ سمیٹ لیا کرتی تھی لیکن اب ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بالواسطہ طور پر جمہوریت بہترین انتقام کا راہنماء اصول اپنا لیا ہے۔ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری جتنا مرضی آہ و بکا کرلیں اب بیرونی دنیا ان کی پریشانی دور کرنے کیلئے نہیں آئے گا کیونکہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔اور یہ انتقام آئینی اور قانونی بھی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
2Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »