عمران خان کیلئے سینے پر گولی کھانے کو تیار تھی،ریحام خان

0
0 0
Read Time:1 Minute, 59 Second

ویب ڈیسک

اسلام آباد:وزیراعظم کی سابق اہلیہ ریحام خان جو عمران خان سے سے علیحدگی کے بعد اکثر ان پر تنقید اور ذاتی زندگی کے منفی پہلو اجاگر کرتی رہی ہیں اس بار انھوں نے کچھ اور نئی باتیں کی ہیں.

اس حوالے سے اردو پوائنٹ نے ان کے ایک حالیہ انٹرویو کے اقتباسات شائع کئے ہیں، ریحام خان کہتی ہیں مجھے اکثر خوف رہتا تھا کہ بینظیر کی طرح کوئی میرے شوہر عمران خان کو گولی نہ مار دے۔

اس لیے جب بھی میں انہیں کہیں بھیجتی تو آیت الکرسی پڑھ کر بھیجا کرتی تھی۔میں اکثر سوچتی تھی کہ خدانخواستہ کبھی ایسا موقعہ آیا تو میں خود عمران خان کے آگے آ کر گولی اپنے سینے پر کھا لوں گی۔

ریحام خان کے مطابق انھوں نے ایک لمبے قد کا لڑکا گارڈ بھی رکھا تھا جس کا قد عمران خان سے بھی لمبا تھااور اسے ہدایات دی تھیں کہ کبھی ایسا موقعہ آئے تو وہ عمران خان کے سامنے آ جائے۔

میں عمران خان کی اجازت کے بغیر گھر سے نہیں نکلتی تھی یہاں تک کہ میں اپنی والدہ کے گھر بھی نہیں جاتی تھی۔مگر اس شخص نے مجھے بدنام کرنے کے لیے لوگوں سے رابطے کیے اورمیری کردار کشی کے لیے لوگوں کو ای میلز کیں۔

مجھے ان کی کرتوتوں پر شک تھا مگر ان کے بلیک بیری موبائل نے سارا کچا چٹھا میرے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ایک مرتبہ میں نے ان سے کہا کہ ہماری شادی کی سالگرہ آ رہی ہے تو مجھے گفٹ دو۔

آپ نے کبھی مجھے پاکٹ منی نہیں دی کبھی کوئی زیور نہیں دیا کبھی کچھ بھی نہیں دیا اب کی بار سالگرہ پر گفٹ دینا تو اس نے مجھے دس بیس ڈالر کے مڑے تڑے نوٹ دیے جس پر میں بہت حیران ہوئی۔

انہوں نے کہا وہ نوٹ واش روم سے نکال کر دیے اوروہ گول گول مڑے ہوئے تھے اور میں حیران ہوئی کہ کوئی اس طرح کے خاص انداز میں باتھ روم میں پیسے کیوں رکھتا ہے.

تاہم جب انہوں نے میرا اعتماد توڑااور اس قسم کا ماحول پیدا کرنا چاہا کہ میرے ملک ریاض یا پھر ایم آئی سکس کے ساتھ تعلقات ہیں تو پھر میں ان کے سامنے آ گئی۔

یہ بزدل انسان ہے اگر اس میں ہمت ہوتی تو مجھے طلاق دے کر خود سے الگ کر دیتا میری کردار کشی کے لیے ماحول کیوں بنا رہا تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
100 %
0Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »