صدارتی ایوارڈ یافتہ ‘سیڈا’ کے صدر خالد نعیم کا انٹرویو

0
2 0
Read Time:15 Minute, 46 Second

ثاقب لقمان قریشی

سپشل ایجوکیشن ڈیمارٹمنٹ سے ڈائریکٹر جنرل ریٹائرڈ ہونے والے سیڈا (سوشل اینڈ اکنامک ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایٹس) کے صدر
خالد نعیم سے قومی اشارتی زبان، نابینا افراد کے مسائل اور حکومتی اقدامات اور اداروں کے کردار کے حوالے سے، زمینی حقائق ڈاٹ ،کیلئے انٹرویو کیا گیا ہے جس کی تفصیلات درج ذیل ہے.

سوال: تعلیم کہاں سے حاصل کی؟ سپیشل ایجوکیشن میں کتنا عرصہ ملازمت کی؟

ابتدائی تعلیم گجرانوالہ سے حاصل کی۔چھٹی جماعت سے ایم اے تک تعلیم لاہور کے مختلف سکولوں اور کالجز سے حاصل کی۔ سوشل ورک سے گہرے لگاؤ کی وجہ سے 1975 میں ایم اے سوشل ورک میں کیا۔ ایم اے کرنے کے بعد نوکری ڈھونڈنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ 1978ء میں منسٹری آف سوشل ورک میں بطور ریسرچ آفیسر بھرتی ہوئے اور 2009ء میں اسی ڈیپارٹمنٹ سے بطور ڈائریکٹر جنرل ریٹائر ہوئے۔
ملازمت کے دوران علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے سپیشل ایجوکیشن میں ڈگری حاصل کی۔ مزید پڑھنے کا شوق ہوا تو ملازمت سے چھٹیاں لے کر پشاور یونیورسٹی سے سپیشل ایجوکیشن میں ایم فل کرنے چلے گئے۔ ایم فل کے دوران برطانیہ اور ناروے سے مختلف کورسز بھی کئے۔ مقامی اور بین الاقوامی میٹینگز، سیمنارز اور ورک شاپس نے خصوصی افراد کے مسائل اور تعلیم کے حوالے سے مزید رہنمائی فراہم کی۔

سوال: سیڈا کا قیام کب عمل میں آیا؟

سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا حصہ ہونے کی وجہ سے انسانی حقوق، بچوں، خواتین اور خاص طور پر خصوصی افراد کے مسائل سے متعلق گہری آگہی رکھتے تھے۔ نوے کی دہائی سے ان مسائل پر کام بھی کرنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن سرکاری نوکری کی وجہ سے اپنا ذاتی ادارہ قائم نہیں کر سکے۔ 2014 تک بہت سے ہم خیال دوست ریٹائرڈ ہوچکے تھے۔ سب انسانی خدمت کے جذبے سے سر شار تھے۔ اس طرح 2014 میں سیڈا کا قیام عمل میں آیا اور اسی سال اسے رجسٹرڈ بھی کروایا گیا۔

سوال: سیڈا کیا کام کرتی ہے؟

سیڈا کے قیام کا بنیادی مقصد انسانی حقوق سے متعلق آگہی عام کرنا ہے۔ دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے ہونے والے اقدامات اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ سیڈا خواتین، بچوں اور خاص طور پر خصوصی افراد کے حقوق کے حوالے سے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں، این جی اوز، کالجز اور یونیورسٹیوں میں ورکشاپس اور ٹریننگز کا اہتمام کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے مستقبل کے گولز اور انکے حاصل کرنے کے طریقے کار کی وضاحت کرنا سیڈا کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔

سوال: سیڈا کو کن عالمی اداروں کا تعاون حاصل ہے؟

سیڈا مختلف عالمی اداروں کے تعاون اور اشتراک کے ساتھ اپنے مشن کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ہالینڈ کی آئیکو کارپوریشن اور سائٹ سیور سیڈا کے اہم ترین پاٹنرز ہیں جنکی ٹیکنیکل اور مالی سپورٹ سے سیڈا نے بہت سے اہم فرائض سر انجام دیئے۔ اسکے علاوہ ہینڈی کیپ انٹرنیشنل، پلان انٹرنیشنل، سی بی ایم اور اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیز بھی سیڈا کے مختلف پراجیکٹس پر کام کرچکی ہیں۔

سوال: یو این سی آر پی ڈی اور ایس ڈی جیز کی خصوصی افراد تک رسائی کیسے ممکن بنائی؟

یو این سی آر پی ڈی اور ایس ڈی جیز اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک کے درمیان انسانی حقوق کے ایسے معاہدے ہیں جن کی پاسداری ہر رکن ملک پر فرض ہے۔ وطن عزیز کے خصوصی افراد تعلیم کی کمی اور مختلف وجوہات کی بناء پر ان بین الاقوامی قوانین سے واقفیت نہیں رکھتے۔ سیڈا نے یو این ڈی پی، پلان، سائٹ سیور اور سی ایم کے تعاون سے ان بین الاقوامی قوانین کی اردو میں تشریح کروا کر خصوصی افراد اور مختلف این جی اوز میں تقسیم کروائیں۔ نابینا افراد تک رسائی کیلئے اسکی بریل میں بھی کاپیاں تیار کی گئیں۔ جبکہ سماعت سے محروم افراد کی آسانی کیلئے اسکی سائن لینگویچ ویڈیوز بھی تیار کی گئیں، اسکے علاوہ سپیشل ایجوکیشن اور متعلقہ اداروں کو کاپیاں فراہم کی گئیں جس نے اقوام متحدہ کے اہداف سے متعلق آگہی عام کرنے میں مدد فراہم کی۔

سوال: انسانی حقوق کے حوالے سے کتنے بڑے ایوارڈ حاصل کر چکے؟

خالد نعیم کہتے ہیں کہ سرکاری نوکری کے دوران کچھ مختلف کرنا مشکل کام تصور کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر فیروز احمد اور مشہور بیوروکریٹ سلمان فاروقی کو اپنا استاد مانتے ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے بہت سے ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔ 2016ء میں منسٹری آف ہیومن راٹس کی طرف سے انکلوسو ایجوکیشن پر صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2008ء میں سول ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی طرف سے چائڈ رائٹس ایکٹوسٹ کا ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ خالد نعیم کہتے ہیں کہ انھیں انسانی حقوق کیلئے کام کرتے ہوئے چالیس سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ خصوصی افراد کے حقوق پر کام کرنا ہمیشہ سے انکی اولین ترجیح رہی ہے۔ خدا انکے کام کو پسند کر لیتا ہے تو اس سے بڑا کوئی ایوارڈ نہیں۔

سوال :خصوصی افراد کی ملازمت کے حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں؟

پنجاب اور خیبرپخونخواہ میں خصوصی افراد کی ملازمتوں کا کوٹہ تین فید جبکہ سندھ اور بلوچستان میں پانچ فیصد ہے۔ ایک اندازے کے مطابق خصوصی افراد کو مین سٹیم میں شامل نہ کیئے جانے کی وجہ سے ملک کو ہر سال گیارہ اشاریہ نو سے لے کر پندرہ ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
خصوصی افراد میں بظاہر سب سے کم نوعیت کی معذوری سماعت سے محروم افراد کی نظر آتی ہے لیکن ایک اشارتی زبان کے نہ ہونے، سکولوں کی کم تعداد، غیر تربیت یافتہ اساتذہ کرام، آگہی کے فقدان، غربت، بے روزگاری، صحت کی نامناسب صورتحال اور حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد تعلیم اور روزگار کے حصول کے معاملے میں دیگر گروپس سے پیچھے نظر آتے ہیں۔

سوال: اشاروں کی زبان کی تعریف کس طرح کریں گے؟

اشاروں کی زبان منہ سے بولی جانے والی زبان کی طرح رابطے کا ایک ذریعہ ہے۔ منہ سے بولی جانے والی زبان میں ہم جو باتیں منہ سے بیان کرتے ہیں۔ اشاروں کی زبان میں ان الفاظ کو ہاتھوں کے اشاروں، چہرے کے تاثرات اور جسم کی حرکت سے بیان کرنے کی کوشش کی جاتی ہیں۔

سوال: تقسیم سے قبل برصغیر پاک و ہند میں کون سی سائن لینگویچ بولی جاتی تھی؟

سائن لینگویچ پر تحقیق کے سلسلے میں خالد نعیم انڈیا تک جا چکے ہیں۔ برصغیر میں سماعت سے محروم افراد کا پہلا سکول 1885 میں ممبئی میں قائم ہوا۔ جس کی تجویز ڈاکٹر ہیو نے دی۔ سکول کے قیام کیلئے اس وقت کے وائسرائے لارڈ رپن سے مذاکرات کیئے گئے۔ لارڈ رپن کو تجویز بہت پسند آئی۔ اسطرح 1885 میں ممبئی میں سماعت سے محروم افراد کے پہلے سکول کی بنیاد پڑی۔
تقسیم سے پہلے برصغیر میں جو سائن لینگویچ بولی جاتی تھی اسے برٹش انڈوپاک سائن لینگویچ کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں اشاروں کی جو زبان بولی جاتی ہے اسے پی ایس ایل کہا جاتا ہے۔

سوال: پی ایس ایل کی تحریک کا آغاز کب ہوا؟

قیام پاکستان کے بعد سماعت سے محروم افراد کو رابطے کیلئے ایک قومی زبان کی ضرورت تھی۔ پی ایس ایل کی تحریک پاکستان بننے کے ساتھ ہی شروع ہوچکی تھی۔ تحریک سست روی کا شکار رہی لیکن چلتی رہی۔ ایک قومی اشارتی زبان کیلئے کام کرنے والی تنظیموں میں کراچی کا ابساء (انجمن برائے بہبود سماعت اطفال)، کراچی کا ایک ادارہ ڈیوا (ڈیف ایجوکیشن ویلفیئر ایسوسی ایشن)، لاہور کا گنگ محل)، گجرانوالہ کا نیشنل سکول فار ہیرنگ ایمئپرڈ چلڈرن، مردان کا سپیچ اینڈ ہیرنگ ڈس آڈر سینٹر، ڈیف ریچ اور جی ایس اکیڈمی سندھ کے نام قابل ذکر ہیں۔ سماعت سے محروم افراد کیلئے پی ٹی وی پر بولتے ہاتھ کے نام سے ایک پروگرام چلا کرتا تھا جس کی میزبانی سید افتخار حسین کیا کرتے تھے۔ اس پروگرام نے سائن لینگویچ کے حوالے سے آگہی عام کرنے میں بہت مدد فراہم کی۔
این آئی ایس ای فیڈرل گورنمنٹ کے ڈاریکٹریٹ فار سپیشل ایجوکیشن کے تحت چلنے والا قومی سطح کا ادادہ ہے۔ این آئی ایس ای نے سماعت سے محروم افراد کیلئے کام کرنے والی تنظیموں اور ماہرین کے تعاون سے نوے کی دہائی میں پی ایس ایل کی بنیاد رکھی۔

سوال: کیا سیڈا نے بھی ایک قومی اشارتی زبان کی تحریک میں اپنا کردار ادا کیا ہے؟

سیڈا نے چار سال قبل این-آئی-ایس-سی، ماہرین اور کچھ بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے 1990 کی دہائی کے رکے ہوئے کام کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے سرکاری ملازمین اور این جی اوز سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور قومی سطح کی ورک شاپ منعقد کروائی جس کا مقصد سب دوستوں کی رائے سے ایک متفقہ قومی اشارتی زبان کا قیام تھا۔ اس میٹنگ میں نئے اشاروں کو اشارتی زبان کا حصہ بنانا اور مستقبل میں آنے والے نئے اشاروں کو شامل کرنے کے طریقہ کار کی بھی وضاحت کی گئی۔ پورے عمل کی فوٹو گرافی کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ صرف پرنٹنگ کا مرحلہ باقی ہے جو ناگہانی وجوہات کی بناء پر تعطل کا شکار ہے۔ این آئی ایس ای پورے کام کو خود بھی پرنٹ کروا سکتی ہے اور اگر اسے سیڈا کی مدد درکار ہے تو سیڈا مدد کیلئے تیار ہے۔

سوال: کیا معاشرے کے ہر فرد کو اشاروں کی زبان سے واقفیت رکھنی چاہیئے؟ آپ کو اشاروں کی زبان آتی ہے؟

ہر فرد کو اشاروں کی زبان سکیھنی چاہیئے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ ہمارے پاس رابطے کیلئے ایک سے زائد ذریعہ موجود ہوگا۔ دوسرا یہ کہ اشاروں کی زبان جنگ، قدرتی آفات اور ناگہانی حالات میں مدد فراہم کرسکتی ہے اور تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ہم سماعت سے محروم افراد کی بات چیت کو سمجھ سکیں گے۔ جس سے انکی احساس محرومی دور ہوسکے گی اور یہ عام لوگوں کی طرح زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھ سکیں گے۔

خالد نعیم کہتے ہیں کہ وطن عزیز میں خصوصی افراد کے حوالے سے آج جتنی بھی آگہی نظر آتی ہے اس میں بنیادی کردار سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا ہے۔ 1981ء کے سال کو خصوصی افراد کے سال کے طور پر منایا گیا جس نے آگہی عام کرنے میں بہت مدد فراہم کی۔ سپیشل ایجوکیشن کی ابتدائی ٹیم نے بڑی محنت اور خدمت کے جذبے سے پورے ملک میں خصوصی تعلیمی اداروں کا جال بچھایا۔
اسی کی دہائی میں سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اسلام آباد میں سماعت سے محروم بچوں کا ایک سکول قائم کیا۔ خالد صاحب بلا معاوضہ اس سکول میں دو گھنٹے پڑھانے کیلئے جایا کرتے تھے۔اس وقت سائن لینگویچ کا رواج عام نہیں تھا۔ خالد صاحب نے تحقیق کر کے سائن لینگویچ سیکھی اور بچوں کو سکھانے کی کوشش کی۔
پڑھانے کا یہ سلسلہ کئی سال تک یونہی چلتا رہا۔ پھر ذمہ داریاں تبدیل ہونے کی وجہ سے وقت نکالنا مشکل ہوتا چلا گیا۔ سائن لینگویج کافی حد تک بھول چکے ہیں۔ لیکن دوبارہ سیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

سوال: اشاروں کی زبان بولنے والی زبان سے کتنی مماثلت رکھتی ہے؟

اشاروں کی زبان ایک آزاد زبان ہے۔ بولنے والی زبان اور اشاروں کی زبان میں مماثلت نہیں پائی جاتی۔ دونوں رابطے کے مختلف طریقہ کار ہیں ایک میں منہ سے بول کر اپنا پیغام دوسروں تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ دوسری میں ہاتھوں کے اشاروں، چہرے کے تاثرات اور جسم کی حرکت سے یہ کام لیا جاتا ہے۔
سوال: آپ کے دور سربراہی میں سماعت سے محروم افراد کیلئے کیا اقدامات کیئے گئے؟
خالد صاحب اپنے دور کو خصوصی افراد کے حوالے سے بہترین قرار دیتے ہیں۔ اس کا سہرا اپنی پوری ٹیم کو دیتے ہیں جن کی انتھک محنت سے تاریخی نوعیت کے اقدامات کیئے گئے۔
چاروں صوبوں، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں خصوصی تعلیمی اداروں کا جال بچھایا گیا۔ اسلام آباد میں ہیرنگ اسیسمنٹ (بہرہ پن) کیلئے جدید طرز کی لیب بنائی گئی۔ سماعت سے محروم افراد میں ہیرنگ ڈیوائسز اور ائیرموڈ تقیسم کیئے گئے۔ پورے ملک میں سائن لینگویچ کے فروغ کیلئے ورکشاپس منعقد کروائی گئیں۔ اسکے علاوہ خصوصی افراد کو ہنر سے آراستہ کرنے کیلئے ملک بھر میں وکیشنل ٹریننگ سینٹرز قائم کیئے گئے جہاں سے مختلف نوعیت کے کورسز کرنے کے بعد خصوصی افراد خودمختار اور بااختیار زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتے تھے۔
حکومت کی پالیسیز کو تمام صوبوں میں مرتب کروانے کا جامع طریقہ کار بنایا۔ این جی اوز کے مطالبات حکومت تک پہنچانے کیلئے نظام بنایا۔ سماعت سے محروم افراد کیلئے کام کرنے والے افراد کیلئے بیرون ملک کورسز کا اہتمام کروایا گیا۔ کورسز امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں ہوا کرتے تھے ان میں دو ماہ کے قلیل مدتی کورسز سے دو سال کی ڈگریز بھی شامل تھیں۔
پی ٹی وی کے اشتراک سے خبروں میں سائن لینگویچ انٹرپریٹر کو شامل کیا۔ پیمرا کے ساتھ مل کر نجی چینل مالکان سے سائن لینگویچ کے فروغ کے حوالے سے مزاکرات کیئے لیکن بےسود رہے۔

سوال: وطن عزیز میں سماعت سے محروم افراد کی تعداد کتنی ہے؟

درست اعداد و شمار، مسائل سے آگہی، روک تھام، قانون سازی اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ وطن عزیز میں خصوصی افراد کے درست اعداد و شمار کا نہ ہونا مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔
سماعت سے محروم افراد کی تعداد سے متعلق تین قسم کی آراء پائی جاتی ہیں۔ پہلی رائے 1998ء کی مردم شماری کے نتائج سے لی جاتی ہے جس کے مطابق خصوصی افراد ملک کی آبادی کا 2.49 فیصد ہیں جن میں سے 10 فیصد افراد سماعت سے محرومی کا شکار ہیں۔ مختلف مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کے سروے کے مطابق خصوصی افراد ملک کی آبادی کا 10 فیصد ہیں۔ اگر پاکستان کی موجودہ آبادی 20 کروڑ ہے تو 10 فیصد کے حساب سے خصوصی افراد کی تعداد 2 کروڑ ہوئی۔ اس طرح آزادانہ ذرائع کے مطابق ملک میں سماعت سے محروم افراد کی تعداد 20 لاکھ ہے۔تیسری رائے 2017ء کی مردم شماری سے لی جاتی ہے۔جس میں خصوصی افراد کی تعداد کو ڈرامائی طور پر کم کر کے 0.48 فیصد ظاہر کی گئی ہے۔ جسے خصوصی افراد نے سپرریم کورٹ میں چلینج کر رکھا ہے۔

سوال: وطن عزیز کے سماعت سے محروم افراد کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟

خالد نعیم نے کہا وطن عزیز کے بہت سے خصوصی افراد موروثی امراض کا شکار ہیں۔ مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے یہ امراض نسل در نسل چلے آرہے ہیں۔ آگہی کے فقدان کی وجہ سے مختلف وبائی امراض جو باقی دنیا میں ختم ہو چکے ہیں ہمارے ملک میں گاہے بگاہے سر اٹھاتے رہتے ہیں۔
ب۔ اگر سماعت کے امراض کی تشخیص ابتدائی عمر میں ہو جائے تو علاج کافی حد تک ممکن ہے۔ نامناسب سہولیات کی وجہ سےاکثر بچے مستقل بہرے پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
پ۔ اشارتی زبان سے ناواقفیت کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کو نالائق اور نکما تصور کیا جاتا ہے۔ سماعت سے محروم افراد رابطے کے فقدان کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ت۔ وطن عزیز میں سماعت سے محروم افراد کے سرکاری اور غیرسرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد 250 سے 300 کے درمیان ہے۔ جو آبادی کے لحاظ سے ناکافی ہے۔
ث۔ ایک اشارتی زبان نہ ہونے کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کو حصول تعلیم اور ایک شہر سے دوسرے شہر میں ابلاغ کے معاملے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ج۔ وکیشنل ٹریننگ سینٹرز کی کمی کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کی بڑی تعداد ہنر سے محروم رہ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرے پر بوجھ تصور کی جاتی ہے۔
کالج اور یونیورسٹیوں میں سماعت سے محروم افراد کو مخصوص مضامین میں ڈگریاں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے جن میں سے ذیادہ تر مضامین پروفیشنل نوعیت کے نہیں ہیں۔
چ۔ عام لوگوں کی اشاروں کی زبان سے ناواقفیت، سماعت سے محروم افراد کی نوکری کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہے۔
ح۔ پاکستان میں خصوصی افراد سے شادی کرنے کا رجحان ابھی تک فروغ نہیں پایا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ شادی جیسے اہم بندھن سے محروم رہ جاتے ہیں۔

سوال: سماعت سے محروم افراد کے حوالے سے سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں کن انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے؟

خصوصی تعلیمی اداروں کی تعداد ملک کی آبادی کے لحاظ سے کافی کم ہے۔ اسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سماعت سے محروم بچوں کے اساتذہ کرام کو بیرون ملک ٹریننگ کیلئے بھیجا جائے تاکہ سماعت سے محروم افراد کی تعلیم کے حوالے سے ہونے والی تبدیلیوں کو ملک میں لاگو کیا جاسکے۔ وکیشنل ٹریننگ کو صنعتوں کے ساتھ انٹیگریٹ کیا جائے تاکہ ٹریننگ حاصل کرنے والے بچے نوکری حاصل کر کے خودمختار اور بااختیار زندگی گزار سکیں۔

سوال: سماعت سے محروم افراد کیلئے ایک اشارتی زبان کتنی اہمیت رکھتی ہے؟

پاکستان سائن لینگویچ کی شکل میں سماعت سے محروم افراد کے پاس ایک قومی اشارتی زبان موجود تو ہے لیکن پی ایس ایل ابھی تک ہمہ گیر نوعیت کی زبان نہیں بن سکی ہے۔ جس کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کو تعلیم، روزگار اور رابطے میں مسائل کا سامنا رہتا ہے۔
ترقی یافتہ قومی اشارتی زبان کے ذریعے سماعت سے محروم افراد ملک کے کسی شہر میں باآسانی تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ کہیں بھی نوکری کر سکتے ہیں۔ کسی شخص تک اپنا پیغام باآسانی پہنچانے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ ایپلی کیشن تیار کی جاچکی ہیں اور کچھ تیاری کے مراحل میں ہیں۔ جن کی مدد سے رابطے کے بہت سے مسائل حل کیئے جا سکیں گے۔

سوال: نئے اشاروں کو قومی زبان کا حصہ کیسے بنایا جاتا ہے؟

انسان نے رابطے کیلئے جس دن سے زبان اور اشاروں کا استعمال کیا اس دن سے نئے الفاظ اور اشارے زبان کا حصہ بن رہے ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ نئے اشاروں کو زبان کا حصہ بنانے کیلئے تمام صوبوں اور مرکز سے ایک قومی بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے۔ سپیشل ایجوکیشن، این جی اوز اور سول سائٹی کے ارکان اس کے ممبر ہوتے ہیں۔ بورڈ ہر چند ماہ بعد نئے اشاروں کی جانچ پڑتال کرتا ہے اسطرح بورڈ کی متفقہ رائے سے نئے اشاروں کو قومی زبان کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

سوال؛ مستقبل میں سماعت سے محروم افراد کیلئے کیا کرنا چاہتے ہیں؟

ایک قومی اشارتی زبان کا مشن تعطل کا شکار ہے اسے پایئہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ دوسرا اسلامی تعلیمات کا اشارتی زبان میں ترجمہ کرکے سماعت سے محروم افراد کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

سوال؛ حکومت وقت کو سماعت سے محروم افراد کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

حکومت سماعت سے محروم افراد اور سماعتی امراض کے حوالے واضع پالیسی کا اعلان کرے۔ سماعت سے محروم افراد کی ری بلیٹیشن اور سماعتی مسائل کی روک تھام کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک ٹیبل پر بٹھائے، انکی رائے سے پالیسیز تشکیل مرتب کی جائیں۔ سماعت سے محروم افراد کی گنتی کیلئے ملک میں ایک بڑا سروے کیا جائے۔ اس سروے کی روشنی میں سماعت سے محروم افراد کی درجہ بندی کی جائے۔ پھر درجہ بندی کے حساب چھوٹے بڑے منصوبے تشکیل دیئے جائیں۔
ایک قومی اشارتی زبان ترتیب دی جائے اور اسے پورے ملک میں لاگو کیا جائے۔ زبان کے فروغ کیلئے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا بھی سہارا لیا جائے۔ اس قسم کے اقدامات سے مختصر سے عرصے میں سماعت سے محروم افراد کے بیشتر مسائل حل کیئے جاسکتے ہیں۔

Happy
Happy
50 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
50 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
0Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »