شعیب ملک کو آوٹ کروانے والے اظہر علی کے پیچھے پڑ گئے

0
0 0
Read Time:1 Minute, 53 Second

فوٹو : فائل

اسلام آباد( سپورٹس ڈیسک) پاکستان کی کرکٹ کے پس پردہ مضبوط لابی نے شعیب ملک کو ٹیم سے آوٹ کرنے کے بعد ٹیسٹ کپتان اظہر علی کا پیچھا شروع کردیا ہے۔

یہ مضبوط لابی سپورٹس ٹی وی اینکرز اور بڑے گروپس کے اخبارات کے سپورٹس ایڈیشنز کرنے والوں کی ہے جو اپنی خواہش کو پہلے خبر بناتے ہیں اور پھر خبر کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ایڑی چوٹی کازور لگا دیتے ہیں۔

چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑنے کا مصباح الحق نے اعلان کر چکے تھے اس کے بعد ابھی انھوں نے زمبابوے کے خلاف ٹی ٹوئنٹی کی ٹیم کااعلان کرنا تھا لیکن اس لابی نے پہلے ہی ٹیم اناونس کردی تھی۔

ذرائع ، میڈیا رپورٹس ، انتہائی قابل اعتماد ذرائع کے حوالے دے کر بتایا گیا تھا کہ شعیب ملک کو زمبابوے کے خلاف ریسٹ دیا جائے گا پھر یہ خواہش خبر بنی اور پھر مصباح الحق کی زبان بن گئی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سلیکشن کمیٹی نے چیف سلیکٹر کے ساتھ مل کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے تو پھر یہ کون سا بھونڈا طریقہ ہے کہ ٹیم کی سلیکشن پہلے ہی اعلان کردی جائے اور چیف سلیکٹرز کی بیٹھک محض رسمی کارروائی ہو۔

شعیب ملک کے بعد یہ لابی اب اظہر علی کے پیچھے پڑی ہوئی ہے اور انھیں کپتانی سے ہٹانے کے درپے ہیں اس کیلئے پہلے یہ جواز گھڑا گیا کہ اظہر علی نے وزیراعظم سے ملاقات کی تو پی سی بی ان سے ناراض ہے۔

اب یہ ٹمکیری چھوڑ دی گئی ہے کہ بورڈ کے ساتھ ساتھ وزیراعظم بھی دورہ انگلینڈ میں ناقص کپتانی کی وجہ سے نالاں ہیں اور کپتانی کیلئے نیا نام تلاش کیا جارہاہےاور سارا بوجھ بابر اعظم پر ڈالنا چارہے ہیں۔

یہی لابی خبروں کے زور پر فواد عالم کو ٹیم میں گیارہ سال بعد واپس لے کر آئی تھی مگر بد قسمتی سے فواد عالم انگلینڈ میں اچھا کم بیک نہیں کرسکے تاہم ٹیسٹ ٹیم میں ان کا نام اب بھی زیر غور رہے گا۔

اس لابی نے سرفراز احمد کی واپسی کیلئے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ان کی تمام کوششوں پر خود سرفراز احمدکی اپنی کارکردگی نے پانی پھیر دیا اور وہ پی ایس ایل فائیو کی طرح نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں بھی بیٹنگ کے جوہر نہ دکھا سکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
en_USEnglish