سعودی عرب میں بغیر عبایہ خواتین توجہ کا مرکز بن گئیں

951
0 0
Read Time:2 Minute, 50 Second

فوٹو :اے ایف پی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سعودی عرب میں جدیدیت کی کوئی جھلک نظر آہے اور دنیا اسے محسوس نہ کرے یہ کیسے ہوسکتا ہے، بغیر عبایہ ریاض میں چلتی پھرتی خواتین بھی خبر بن گئیں.

مناہل

اس حوالے سے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے مطابق 33 سالہ مشاعل الجلود ان گنی چنی خواتین میں سے ہیں جنہوں نے عوامی مقامات پر عبایہ پہننا ترک کردیا ہے۔

حالیہ دنوں میں مشاعل کی ایسی ہی کچھ تصویریں وائرل ہوئی ہیں جس میں انہیں نارنجی جیکٹ اور سفید چست پاجامہ پہنے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

مشاعل

مشاعل، ریاض میں جہاں کہیں سے بھی گزرتی ہیں آس پاس موجود مرد تو مرد عورتیں بھی انہیں حیرت سے دیکھتی ہیں اور پھر سرگوشیاں شروع ہوجاتی ہیں۔

مشاعل نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے دفتر کے علاوہ ہر جگہ بغیر عبایہ کے ہی سفر کررہی ہیں، کام کی جگہ پر وہ مجبوراً عبایہ پہنتی ہیں ورنہ انہیں نوکری سے نکالے جانے کا ڈر ہے۔

مشاعل نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے میں ریاض کے ایک شاپنگ مال میں گئی اور مجھے دیکھتے ہی لوگوں نے چہ مگوئیاں شروع کردیں۔ برقعہ پہنی چند خواتین نے مجھ سے یہ بھی پوچھ لیا کہ کیا آپ کوئی مشہور شخصیت ہیں؟

خواتین کو جواب دیا کہ میں کوئی معروف شخصیت نہیں بلکہ ایک عام سی سعودی خاتون ہیں۔

مشاعل نے کہا کہ ایک بار وہ ریاض کی سپرمارکیٹ گئیں جہاں موجود ایک برقعہ پوش خاتون نے انہیں دھمکی دی کہ وہ میرے عبایہ نہ پہننے کی شکایت پولیس سے کریں گی۔

مشاعل ان چند سعودی خواتین میں سے ہیں جنہوں نے حالیہ مہینوں میں عبایہ پہننا ترک کردیا ہے۔اسی طرح 25 سالہ سماجی کارکن مناہل العتیبی بھی ان خواتین میں سے ہیں جنھوں نے عبایہ پہننا چھوڑ دیا ہے ۔

مناہل کہتی ہیں کہ وہ چار ماہ سے ریاض میں بغیر عبایہ کے رہ رہی ہیں، سڑکوں پر چہل قدمی کرتی ہیں اور ریسٹورانٹ میں کھانا کھاتی ہیں۔

مناہل العتیبی کا کہنا ہے کہ ‘میں چاہتی ہوں کہ میں جیسے چاہوں رہوں، بغیر کسی پابندی کے، کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ مجھے ایسا کچھ پہننے پر مجبور کرے جو مجھے پسند نہیں’۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے خواتین کے لیے عبایہ پہننا لازمی ہے اور یہ پابندی غیر مسلم خواتین پر بھی لاگو ہے اور اس پر عمل سعودی مذہبی پولیس کرواتی ہے۔

مشاعل کہتی ہیں کہ اس حوالے سے واضح قانون نہیں ہے، مجھے خطرہ ہوسکتا ہے، مذہبی انتہاپسندوں کی جانب سے مجھ پر حملہ ہوسکتا ہے کیوں کہ میں بغیر عبایہ گھوم رہی ہوں۔

مشاعل کا کہنا ہے کہ رواں برس جولائی میں انہیں ایک مال میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا کیوں کہ انہوں نے عبایہ نہیں پہنا تھا۔

مشاعل کے مطابق انہوں نے گارڈز کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وہ انٹرویو بھی موبائل پر دکھایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خواتین کیلئے ضروری ہے کہ وہ مناسب باعزت لباس زیب تن کریں، ضروری نہیں کہ عبایہ پہنیں لیکن گارڈز نہیں مانے اور انہیں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔

انہوں نے یہ ویڈیو ٹوئٹر پر ڈالی جہاں مال انتظامیہ نے جواب دیا کہ وہ عوامی اقدار کی دھجیاں اڑانے والوں کو داخلے کی اجازت نہیں دیں گے۔سعودی شاہی خاندان کے ایک فرد نے بھی مشاعل کو سستی شہرت کی خواہاں قرار دیا تھا اور انہیں سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *