بلاول بھٹو زرداری کا علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے مطالبہ

14
0 0
Read Time:2 Minute, 11 Second

اسلام آباد( ویب ڈیسک)پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شمالی وزیرستان میں فوجی چیک پوسٹ پر حملے کے الزام میں گرفتار ایم این اے علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان قانون کے مطابق چلے، جس طرح سے جمہوریت پر حملے ہو رہے ہیں، جس طریقے سے انسانی حقوق پر حملے ہو رہے ہیں تو اس صورت حال میں ہر سیاسی جماعت اور ہر جمہوریت پسند کا فرض بنتا ہے کہ باہر نکلے ۔

بلاول بھٹونے کہا کہ اسلام آباد سے خاتون ایم این اے کو گرفتار کیا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، کیا یہ مدینہ کی ریاست ہے کہ جس میں روزے کی حالت میں ایک خاتون ایم این اے کو گرفتار کر کے اس پر تشدد کیا جاتا ہے۔

رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری کے حوالے سے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے فوری پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں تاکہ وہ جمعے کو ہونے والے اجلاس میں آ کر اپنا موٴقف دے سکیں اور قوم کو پتہ چل سکے کہ شمالی وزیرستان میں کیا ہو رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو وضاحت کرنی چاہیے کہ کس طرح سے ایک ممبر قومی اسمبلی کو بغیر پیشگی اطلاع کے گرفتار کیا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارا ایک رکن قومی اسمبلی مسنگ ہے اور ایک گرفتار ہے، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اس معاملے پر کیوں خاموش ہیں، انہیں قوم کو بتانا چاہیے کہ شمالی وزیرستان میں کیا ہو رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے جب بھی جمہوریت پر سمجھوتا کیا تو ملک کو نقصان پہنچا، ہماری دعا ہے کہ پاکستان ایک وفاقی کی صورت میں قیامت تک قائم و دائم رہے۔

یادرہے سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے کے الزام میں رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو 8 ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔دو روز قبل انسداد دہشت گردی کی عدالت نے علی وزیر کو 8 روز تک سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *