وزیراعظم صاحب! آخری اوور تک نہ جائیں

محبو ب الرحمان تنولی

بھوک اور غربت سے مرتے غریب لوگو !
ٹھہر جاو۔ ۔ ابھی خودکشیاں نہیں کرنیں۔
حکومت احساس راشن پروگرام کا سروے کررہی ہے۔
چند مہینوں کی تو بات ہے ۔۔ سروے مکمل ہوتے ہی غریب گھرانوں کو راشن پروگرام کے تحت ماہانہ ایک ہزار کی سبسڈی ملنا شروع ہوجائے گی۔۔اگر آپ کے بڑے ‘ٹبر” کا ماہانہ بجٹ40ہزار ہے تو تب بھی ۔ ٹپ ۔ ہزار روپے ہی ملے گی۔
ہاں مگر یاد رکھناہے یہ سبسڈی بھی صرف ان لوگوں کو ملنی ہے جو ثانیہ نشتر باجی کے زیر انتظام ادارے میں رجسٹرڈ ہیں ۔۔ یعنی احساس پروگرام میں آپ کا نام موجودہے تو تب ہی آپ غریب یا مستحق ہیں۔

اگر آپ دیہات میں ہیں اور پروگرام میں رجسٹریشن نہیں کراسکے۔۔۔ شہر میں ہیں اور موبائل فون سے میسیج نہیں کرسکتے۔۔ کوئی آپ کا حکومتی مشینری میں جاننے والا نہیں ہے۔۔ دفتر کا پتہ نہیں ہے۔۔ آپ کے گھر میں ٹی وی نہیں ہے حکومتی اشتہارات نہیں دیکھ سکے تو پھر آپ غریب تصور نہیں ہوں گے۔۔ بے شک آپ کا کوئی بوڑھاکسی چوک چوراہے میں بھیک مانگ کر شام کو آپ کے گھرانے کا پیٹ پالتاہے ۔
لیکن آپ غریب نہیں کہلاہیں گے۔

غریب ہونے کیلئے احساس پروگرام میں رجسٹریشن ہونا لازمی ہے کیونکہ حکومت کے تخیلاتی ذہن میں غریب وہی ہے جو رجسٹرڈ ہے۔ ۔ حکومت کے ہرکارے دن رات محنت کرکے ۔۔ سرکاری گاڑیوں پر ہزاروں روپے کا پٹرول خرچ کرکے اسٹورز کو رجسٹرڈ کررہے ہیں۔۔
خبردار یہ سوال نہیں کرناکہ ڈیٹا اکٹھا کرنے والے عملے کی تنخواہیں۔۔ٹرانسپورٹ خرچہ۔۔ دفاتر کے اخراجات اور بھاری بھرکم سٹاف پر کتنا خرچ آتاہے اور یہ ساری مشقت کرکے غریب عوام پر احسان کیا کررہے ہیں؟

یہی ماجرا ۔۔ کورونا ریلیف فنڈ کا بھی تھا۔۔۔ ڈیٹا میں کی گئی رجسٹریشن کا کوئی آڈٹ کرے تو سمجھ آئے گی۔۔ کہ کن کن لوگوں نے ریلیف کیلئے رجوع کیا تھا ؟
اور نوازشیں کن پر ہوئیں۔۔ ۔ واقفان حال کہتے ہیں۔۔۔ جس غریب کے نام گاڑی تھی ۔۔ بے روزگاری کے دوران گھر پر پارک ہوگئی ۔۔پٹرول ڈالنے کی استحطاعت نہیں تھی وہ بھی غریب شمار نہیں ہوا۔

جس کسی نے دوست احباب سے قرض لے کر بینک میں 20ہزار رکھ لئے تھے اسے بھی غربت کی لکیر سے نیچے تصور نہیں کیا گیا بلکہ حکومتی مشینری نے ان کو صاحب حثیت کی فہرست میں رکھا۔
وہ جن کے دفاتر میں اپنے لوگ۔۔ واقف مشینری اور چلتے پھرتے حکومتی وسرکاری پرزوں سے تعلقات تھے وہ ریلیف کا حصہ بن گئے۔۔
ایساہی ایک برا تجربہ ۔ ۔ یوٹیلٹی بلز تاخیر سے جمع کرانے کی چھوٹ پر کیاگیا ۔۔تین مہینے کی چھوٹ پر اب تک لوگوں کے یوٹیلٹی بلز پر بقایا جات وصول ہو رہے ہیں۔۔۔
زرا تصور کیجئے ! سرکاری محکموں میں بیٹھی بیورو کریسی ہے یا اقتصادی ٹیم کے ہر کارے ۔۔ جو یہ فیصلے کرتے ہیں کہ غریب کون ہے اور کون نہیں؟

جو ہر حکومت سے یہ ڈرامے بازیاں کرواتے ہیں غربت کم کرنے کے نام پر ۔
ایسے میں جب حکومت کے اندر بھی اداکار شامل ہو جائیں تو پھر تو ڈرامہ کھڑکی توڑ ہونا ہی ہے۔ ۔۔ مگر بریفنگ کی حد تک۔
بریفنگ میں وزیراعظم کو بتایا جاتاہے کہ غریب لوگ ریلیف سے بہت خوش ہیں۔۔ ہم نے پسے ہوئے طبقہ کا مسلہ حل کردیاہے۔۔
یہ تصور کرلیا جاتاہے کہ ملک میں صرف2یا 3کروڑ لوگ ۔۔ یا 4کروڑ غریب ہیں اور ایک ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دے کر ان کا مسلہ حل ہو جائے گا۔

باقی کے18کروڑ عوام کو ریلیف کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ان پر پٹرول بم گرائیں۔۔ بجلی جتنی مرضی مہنگی کردیں۔۔ گیس نہ بھی دیں بلز بھیجتے رہیں۔۔۔اشیائے خوردو نوش کے نرخ آسمانوں تک پہنچا دیں ان کو فرق نہیں پڑتا۔
بس احساس پروگرام کا ڈیٹا حرف آخر ہے ۔۔ جو لوگ اس ڈیٹا میں شامل ہیں وہی غریب اور ضرورت مند ہیں باقی سب صاحب حثیت ہیں اور مہنگائی کے جتنے مرضی کوڑے برسائیں 18کروڑ کو اثر نہیں پڑے گا۔
شہباز شریف کی سستی روٹی ایسے سٹنٹ کا مزاق اڑانے والے ۔۔ سبسڈی کے نام پر اپنے ہی بنائے گئے ڈیٹا پر جو بے معنی سی بھیک دے رہے ہیں انھیں سوچناچایئے کہ ایک ہزار سے بنتاکیاہے؟

ساڑے گیارہ سو میں تو 15کلو آٹے کا توڑا ملتاہے۔۔
اس سے بہتر تھا آپ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے بعد 15دن کا منافع حکومت کے خزانوں میں جمع کرنے کی بجائے عوام کو ریلیف دے دیتے۔۔۔ یکم دسمبر سے 10روپے لیٹر پٹرول کی قیمت ہی کم کردیتے جس کا فائدہ پورے پاکستان کو بلواسطہ یا بلاواسطہ پہنچ جاتا ۔۔
اب تو نوبت یہاں تک آ گئی ہے۔
جس دن کے آغاز میں وزیراعظم غریبوں کا نام لے کر تقریر کرتے ہیں لوگ ڈر جاتے ہیں کہ شام کو بجلی مہنگی ہو گی یا پٹرول۔۔ کوئی نیا ٹیکس لگے گا یا ڈالڈا، چینی اور دالیں مہنگی ہوں گی۔
گورننس نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ۔۔ ایک ہی بازار کی مختلف دکانوں پر ایک ہی ائٹم کے چارچار ریٹس ہیں۔۔کپڑے لینے جائیں یا گراسری۔۔ سپیئر پارٹس لیں یا۔۔کھانے پینے ، اوڑھنے ۔ پہننے کا کوئی ائٹم ۔۔ہر چار دن بعد ریٹ مختلف ہوگا۔
اگر آپ پوچھیں گے تو دکاندار ڈھٹائی سے کہے گا۔۔ کیا کریں یہ ہے تبدیلی سرکار۔
اگر اس کی وابستگی کسی اور سیاسی جماعت سے ہوگی تو ساتھ یہ بھی طنز کرے گا اور ووٹ دو عمران خان کو۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر ایسا ہورہاہے تو یہ حکومت کی ہی نااہلی ہے ۔۔

آئی ایم ایف کے پاس بھیک مانگنے پہنچ گئے اور بوجھ سارا ڈال دیا۔۔ عوام پر۔
تیل کی قیمتیں بڑھیں تو اپنا منافع کم کرنے یا ٹیکسز ختم کرنے کی بجائے اپنا منافع پورا رکھ کر بھرکس نکال دیا عوام کا۔
قیمتوں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔۔ فردوس عاشق اعوا ن نے سیالکوٹ میں ایک اسسٹنٹ کمشنر صاحبہ کو غیر پارلیمانی الفاظ میں جھاڑ پلائی تھی۔
ان کی زبان اور الفاظ درست نہیں تھے مگر طریقہ کار یہی ہے کہ حکومتی مشینری کے ساتھ ساتھ اس انتظامی مشینری کو بھی کوئی کام میں لائے ۔۔
حساس راشن پرواگرام کے نام پر غریبوں کا مزاق اڑانے کی بجائے ۔

تمام شہریوں کو برابر ریلیف دیں۔۔ ۔ یا پھر عوام کو فیصلہ کرنا چایئے کہ آئندہ سال عمران خان کو وہی لوگ ووٹ دیں جو اس ڈیٹا میں باجی ثانیہ کے ادارے نے رجسٹرڈکئے ہیں۔
وزیراعظم صاحب!
خدا کا واسطہ ہے غریبوں کے نام پر خوشنما تقاریر۔ بے وقعت مثالیں ۔ اور قول و فعل میں تضادپر مبنی مقالے پڑھنے چھوڑیں اور غریب عوام پر رحم کریں۔۔۔ یہ کرکٹ نہیں ہے کہ آپ نے وکٹیں بچا کر رکھی ہیں اور آخری اوورز میں تیز کھیلیں گے۔۔آپ نے یہ ٹک ٹک جاری رکھی ہوئی ہے اور اوسط اتنی بڑھ جانی ہے کہ آخری اوورز کے چھکے بھی کام نہیں آئیں گے.. وزیراعظم صاحب! آخری اوور تک نہ جائیں۔
پاکستان میں حکومتوں کی تاریخ بھی مختلف ہے۔۔۔ یہاں ہم نے کئی بار دیکھا ہے کہ آخری اوورز کھیلنے کاموقع نہیں ملتا۔

یہاں سے ہی اپنی اننگز کو الفاظ کی بجائے عملی دھارے کا روپ پہنائیں۔۔ تقاریر نہیں مہنگائی کی پسی عوام کو ایسا ریلیف چائیے جو سب کیلئے ہو۔۔ صرف 2کروڑ کی ڈرامہ بازی نہ ہو۔۔ وہ بھی اونٹ کے منہ میں زیرا۔
آپ کو پتہ بھی نہیں ہے ۔۔ آپ کی صف میں کھڑی بڑی تعداد جو کھبی آپ کی ترجمان بنی ہوئی تھی وہ خاموش ہو چکی ہے۔۔ جو ساتھ چلناچاہتے تھے وہ آپ کی بے رحمانہ پالیسیوں کے سبب رائیں جدا کر چکے ہیں۔

آپ صرف چند مداریوں کی بریفنگز پر فیصلے کرنے کی بجائے زمینی حقائق کو پیش نظر رکھ کر سوچیں۔۔ یہ50ہزار سے کم آمدنی کیا ہوتی ہے؟
آپ جانتے ہیں ۔
حکومت اپنی کم سے کم مقرر ہ تنخواہ پر عمل درآمد بھی نہیں کراسکتی۔۔ آج بھی سرکاری و نجی اداروں میں لوگ ۔ چار چارہزار پر ملازمتیں کررہے ہیں۔۔نجی تعلیمی اداروں میں ایم فل ۔ اساتذہ 10،10ہزار کی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں۔۔

جن کے ہاں آمدنی کا تصور بھی نہیں ہے۔۔ جن کابجٹ 30ہزار اور کھانے والے دس دس ہیں ۔ ۔بے روزگاروں کی ایک فوج ہے ۔ ۔ جو زیادہ ترآپ کی بے رحمانہ پالیسیوں کی وجہ سے ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔۔
کس دنیا میں رہتے ہیں جناب وزیراعظم!
زرا وقت نکال کر صرف سوچیئے! صحت کارڈ بہت اچھا قدم ہے مان لیا۔۔ مگر جینے کیلئے روٹی بھی درکارہے۔۔ اور ایک روز آپ کو اس کا حساب بھی دیناہے۔۔۔ ہر جگہ پی ڈی ایم ایسی اپوزیشن نہیں ہوگی جس کو کسی کی مدد سے قابو کرلیا جائے۔۔۔ اللہ کے ہاں حساب بھی دیناہے آپ کو۔۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔

0Shares

Comments are closed.