پشاور،مدرسہ میں دھماکہ، مرنے والوں کی تعداد 10 ہو گئی

0
0 0
Read Time:1 Minute, 49 Second

پشاور(زمینی حقائق ڈاٹ کام)پشاور میں کوہاٹ روڈ پر علاقہ دیر کالونی میں واقع مدرسے میں دھماکے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 10 ہو گئی 110 سے زائد زخمی ہیں۔

مدرسہ میں دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے.

ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ) کے مطابق دیر کالونی مدرسے میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں شہید افراد کی تعداد 10 جب کہ زخمیوں کی تعداد110 سے زائد ہے۔

ترجمان ایل آر ایچ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں زیادہ تر جھلسے ہوئے ہیں اور متعدد کی حالت تشویشناک ہے ریسکیو ذرائع نے ابتدا میں مدرسے میں پڑھنے والے 19 بچے زخمی ہونے کا بتایا تھا۔

مدرسے کئے اندر اس وقت دھماکا ہوا جب بچوں کی بڑی تعداد دینی تعلیم حاصل کررہی تھی۔ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔

زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال اور خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا ہے جاں بحق ہونے والوں میں 5 بچے بھی شامل ہیں جو مدرسے میں ہی تعلیم حاصل کررہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا خیز مواد ایک بیگ میں رکھا گیا تھا، جو ایک شخص رکھ کر گیا تھا,اے آئی جی شفقت ملک نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکے میں 5 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، جو ٹائم ڈیوائس سے منسلک تھا۔

سی سی پی او پشاور کا کہنا تھا کہ ہر پہلو سے واقعے کو دیکھ رہے ہیں، مدرسے میں داخل ہونے والے مشکوک شخص کی تلاش جاری ہے۔ عوام کو بھی اپنی سیکیورٹی کا خیال رکھنا چاہیے۔

صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ پشاور میں ایک عرصے سے امن تھا، کوئٹہ اورپشاورمیں تھریٹ الرٹ تھا، جس کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی تھی لیکن بچےاور مدرسہ دہشتگردوں کا آسان ہدف تھے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل نیکٹا نے پشاور اور کوئٹہ میں دہشت گردی سے متعلق الرٹ جاری کیا تھا۔ جس کے بعد گزشتہ اتوار کو کوئٹہ علاقے ہزار گنجی دھماکا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
100 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
en_USEnglish