پاکستان کی صحافی خواتین تقسیم کا شکار کیسے ہوئیں؟

0
0 0
Read Time:8 Minute, 5 Second


عالیہ شاہ

پاکستان میں خواتین صحافیوں کی جانب سے ہراسانی کے حوالے سے بیان کے بعد اب صحافی خواتین کے درمیان موجود تقسیم بھی واضح ہو گئی ہے۔ اختلافات کی وجہ سے اس مسئلے کے حل سے متعلق شاید ایک اہم موقع کھو دیا گیا۔
صحافت کبھی عبادت ہوا کرتی تھی لیکن حضور والا یہ اب مقدس پیشہ نہیں رہا اب یہ ایک ایسا پیشہ ہے جس میں جتنا با آواز بلند بولو گے، جتنی ریٹنگ حاصل کرو گے اتنی ہی آشیر باد پاؤ گے اور اتنا ہی پیسہ کماؤ گے۔

صحافت مقدس پیشہ اس وقت ہوا کرتی تھی، جب تنخواہیں چند سو یا چند ہزار ہوتی تھیں اور اکثر صحافی حضرات اسکوٹر پر سفر کرتے ساری زندگی گزار دیتے تھے۔ اخبار پڑھنا سب سے بڑی عیاشی ہوا کرتا تھا اور صحافی دن میں چائے کے دس بیس کپوں کے اندر گھر میں ہونے والی تننگدستی کو گھول کر پی جاتا تھا لیکن اپنے آدرشوں کی قربانی دینے کو تیار نہ ہوتا تھا۔

اور یقین جانیے اس وقت کے صحافی جن مشکلات سے دوچار رہتے تھے وہ اِس دور سے بڑی ہوتی تھیں۔ لیکن الیکٹرانک میڈیا کے بعد جب سے ڈیجیٹل میڈیا کا جن بوتل سے باہر آیا ہے، اس نے اخلاقیات کے پرزوں کو ایک ہی پھونک میں اڑا کر آج کے صحافتی کھیل کو میدان سے اٹھا کر باہر پھینک دیا ہے۔ اب یہاں آپ کو اپنا ‘سودا‘ آواز لگا کر بیچنا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا یہ ایسا شیطانی چرخہ ہے، جس سے نجات بھی ممکن نہیں اور اس کے بنا چارہ بھی نہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا ہماری پوروں کے گرد گھومتا ہے لیکن اگر آپ صحافی ہیں تو کیمرے یا قلم کی طاقت اسی ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے آپ کے لیے ہزاروں دشمن بھی پیدا کر دیتی ہے اور خاص کر اگر آپ صحافی بھی ہیں اور خاتون بھی تو پھر روز ایک نئی جنگ لڑنا پڑتی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا پاکستان کی صحافی خواتین کے لیے زہر ہلاہل ثابت ہو رہا ہے۔

پاکستان کی صحافی خواتین کے پاس سنہری موقع تھا کہ وہ اپنے خلاف ڈیجیٹل میڈیا خاص کر ٹوئٹر پر صارفین کے ذریعے ان کے خلاف استعمال ہونے والی غلیظ زبان نا زیبا کلمات، جان سے مار دینے اغوا کرنے کی دھمکیاں دینے والوں، کافر اور بد کرادر جیسے فتوے لگانے والوں کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے لاتیں لیکن یہ موقع صحافی خواتین کے بیچ نا اتفاقی اور اختلافات نے گنوا دیا۔

چند روز قبل پاکستان کی چند صحافی خواتین نے ایک مشترکہ بیان تیار کیا تھا جس میں حکومتی جماعت کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اس جماعت کی سوشل میڈیا ٹیمز کی جانب سے صحافی خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا آزادی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینا مشکل ہو گیا ہے اس بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنی جماعت کے اندر ایسے تمام ممبران سے فوری طور پر اس طرح کی ہراسا نی بند کرنے کا حکم جاری کرے۔ اس کے بعد ٹویٹ در ٹویٹ کا سلسلہ شروع ہوا پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے فوری طور پر اس کا نوٹس لیا اور ان خواتین کو بلا کر ان کی بات سنی گئی۔

حکومتی جماعت کے چند ممبران سامنے آئے جن کا کہنا تھا کہ ان پر یا ان کی جماعت پر یہ سراسر الزام ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن اظہر مشوانی اور وزیر اعظم کے فوکل پرسن فار سوشل میڈیا ارسلان خالد کے متعلق یہ کہا گیا کہ صحافی خواتین کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے میں وہ شامل ہیں۔ لیکن جواب کے طور پر وہ الزام لگانے والی صحافی خواتین کے بیانات تحریریں اور ٹویٹس منظر عام پر لے آئے، جن سے یہ ثابت کیا گیا کہ یہ جرنلسٹ پی ٹی آئی کی مخالف جماعتوں کے نظریے سے تعلق رکھتی ہیں اور کئی بار فیک نیوز کا سہارا لے کر حکومت کو بدنام کرتی رہی ہیں۔ اس سلسلے میں سکرین شاٹس اور تصاویر شیئر کی گئیں۔ بات یہیں پر ختم ہو جاتی اگر یہ بات صرف حکومتی جماعت کے جوابی حملوں تک رہتی۔

لیکن کیونکہ اس مشترکہ بیان میں پندرہ خواتین شامل تھیں جبکہ اس سے کئی گنا زیادہ تعداد ایسی صحافی خواتین کی تھی جن کے دستخط اس مشترکہ بیان پر نہیں تھے اور نہ ہی وہ اس قرارداد کا حصہ تھیں۔ چند صحافی خواتین منظر عام پر آئیں اور انہوں نے اس مشترکہ بیان کی نفی کر دی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مشترکہ بیان تیار کرنے والی صحافی خواتین کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا صرف جمہوریت پسند خواتین کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ جمہوریت پسند صحافی ہیں اس لیے ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید میڈیا میں موجود باقی خواتین جمہوری رویوں کے برعکس سوچ رکھتی ہیں۔ اس سلسلے میں صحافی اور اینکر پرسن مہر بخاری نے کہا کہ قرارداد پیش کرنے والی خواتین جو غیر جانبدار ہیں ان کو متعصب کہہ رہی ہیں اور جو متعصب ہیں ان کو جمہوریت پسند کہا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اینکر پرسن شفا یوسفزئی، فریحہ ادریس اور چند اور آوازیں بھی اٹھیں۔ اس معاملے پر جب میں نے یہ ٹویٹ کیا کہ آخر اس قرارداد میں دوسری سیاسی جماعتوں اور مذہبی گروپوں کو کیوں شامل نہیں کیا گیا اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے سب ٹویٹ کر کے یہ باور کرایا کہ مجھے جس قسم کی ہراسانی کا سامنا رہا اسے ڈس کریڈٹ نہیں کیا جا رہا اس سلسلے میں فریحہ ادریس نے بھی رابطہ کیا۔ اس معاملے کو سلجھانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ تمام خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے لہذا اس سلسلے میں ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس میں وہ صحافی خواتین بھی شامل ہیں جو پہلے اس مشترکہ بیان میں شامل نہیں تھیں۔ تنزیلہ مظہر اور یشفین پہلے سے ہی ہراسانی کا ایک کیس لڑ رہی ہیں۔

میرا اعتراض اور موقف یہی ہے کہ آخر مشترکہ بیان میں تمام سیاسی جماعتوں اور خاص کر مذہبی گروہوں کو شامل کیوں نہیں کیا گیا جو پاکستانی میڈیا میں کام کرنے والی خواتین کے خلاف سب سے زیادہ ٹرول کرتے ہیں ۔ جس طرف سے کافر اور مرتد قرار دینے کے فتوے نازل ہوتے ہیں وہ تو یہی چند فرقہ وارانہ جماعتوں کی میڈیا ٹیمز ہوتی ہیں ۔ اس کے سوا چند دیگر بریگیڈ بھی کام کرتے ہیں ان جماعتوں کی ٹرولنگ کا شکار میرے سمیت بہت سی صحافی خواتین ہوئی ہیں۔ اگر آپ ان گروہوں کو اس قسم کی کسی قرارداد سے باہر رکھیں گے تو اس کاز کا مقصد فوت ہو جائے گا ۔ اس ناچاقی کو ختم کرنے کے لیے

یہ قرارداد تنقید کا نشانہ نہ بنتی اور نہ ہی اتنے بڑے مقصد کو دھچکا پہنچتا اگر اس میں چند دیگر سیاسی جماعتوں کا نام بھی شامل کر لیا جاتا کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر ہم جس جماعت کے کام پر تنقید کرتے ہیں وہیں سے ہمارے خلاف غلیظ زبان اور ٹرولنگ کا آغاز ہو جاتا ہے۔ خواتین کو ٹرول کرنے کے معاملے میں کوئی بھی پیچھے نہیں۔ صرف یہی نہیں چند صحافی خواتین کا کہنا ہے کہ ان کو آرمی ٹرولز کا بھی سامنا رہتا ہے۔ اس صورتحال میں جب مشترکہ بیان میں صرف ایک ہی جماعت کو نام لیا گیا اور اسی کو موضوع بحث بنایا گیا تو اس نکتے نے لوگوں کو اس قرارداد پر تنقید کا جواز پیدا کر دیا۔ جب حکومتی ترجمان شہباز گل نے اس معاملے پر چند صحافی خواتین کو متعصب قرار دیا اور سخت سست کہا تو معاملہ مزید بگڑ گیا۔ اس سے دونوں گروپوں کے بیچ مزید رنجش پیدا ہو گئی۔ اب پرانے بیان اور نئے بیان کو مشترکہ طور پر پیش کیا جائے گا جس میں نہ صرف پہلے درج کئے گئے تحفظات شامل ہوں گے لیکن اب اس کا دائرہ ایک جماعت سے بڑھا کر تمام جماعتوں تک وسیع کر دیا گیا ہے لیکن اس مقصد کے تحت اس معاملے میں شامل تمام خواتین اس وقت تک اس پر دستخط نہیں کریں گی جب تک کہ ان کے تحفظات دور نہیں ہو جاتے۔

شومئی قسمت کہ یہ معاملہ اب ایک بڑے مقصد کی بجائے دو گروپوں کی لڑائی میں بدل گیا ہے اور دونوں گروپوں کو ایک دوسرے سے شکایات ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں ۔ طنز و مزاح جو کبھی ادب اور شاعری کا اہم جز ہوا کرتا تھا اب اگر ایک صحافی اس کو سوشل میڈیا پر کسی سیاستدان کے خلاف استعمال کرتا ہے تو اس کو یاد رکھنا چاہیے کہ سیاستدان سے جواب بھی آئے گا اور یہ جواب ضروری نہیں کہ صحافی کی حس مزاح سے میل کھاتا ہو ایسی صورتحال پر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہراسانی ہے ۔ آج کے دور میں جب کہ ٹوئٹر ابلاغ کا ایک بڑا ذریعہ ہے دنیا کے بڑے بڑے سربراہاں اپنے بیانات سب سے پہلے اسی پر جاری کرتے ہیں۔ یہاں باقاعدہ بیانیے کی جنگیں لڑی جاتی ہیں ۔ ایسی صورتحال میں صحافی خواتین وحضرات نہ صرف اپنے فولورز کو بڑھانے کے لیے سیاسی چٹکلوں غیر معیاری ری ٹویٹس کا سہارا لیتے ہیں بلکہ عالمی اور قومی ہر دو سطح پر جرنلسٹ غیر متعصب بیانیے کو چیلنج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ اپنے فولورز کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے وہ ذمے داری اٹھائے بغیر دوسرے صارفین کو ری ٹویٹ کرتے ہیں اس طرز عمل سے ایڈیٹوریل پر زد پڑتی ہے ۔ میرے مطابق ڈیجیٹل میڈیا اور خاص کر ٹوئٹر پر سیاسی بیانیہ ایک غیر مقدس کھیل ہے۔

پاکستان کے بیشتر ٹی وی چینلز چھ چھ مہینے تنخواہیں ادا نہیں کرتے اور صحافی مجبور ہوتا ہے کہ وہ یو ٹیوب چینل کھول کر زمین آسمان کے قلابے ملائے کیونکہ سنسنی خیزی ہی دیکھی جاتی ہے تو پھر سوشل میڈیا پر آپ کو ایڈیٹوریل کہاں سے ملے گا۔
(بشکریہ ڈی ڈبلیو)

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »