حکومت کا اے لیول اور میٹرک امتحانات کے امتیازی شیڈول کااعلان

0
0 0
Read Time:2 Minute, 22 Second


اسلام آباد(زمینی حقائق ڈاٹ کام) ملک بھر میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک اسکول عیدالفطر تک بند رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیاہے اس بات کااعان وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے کیاہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ میٹرک امتحانات مئی کے آخری ہفتہ میں ہوں گے یعنی کہ تعلیم متاثر اور والدین کو جون کی فیسیں بھی ادا کرنا ہوں گی جب کہ کورونا کے باوجود اے لیول، او لیول، اے ایس، آئی جی سی ایس ای کے امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔

اس حوالے سے بین الصوبائی وزرائے تعلیم کاوفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزرائے تعلیم نے شرکت کی، بعد میں ٹوئٹر پر فیصلوں کااعلان کیا گیا۔

وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں بتایا کہ اجلاس میں ملک بھر میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک اسکول عید تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں اتفاقِ رائے سے تمام وزرائے تعلیم کے فیصلے لیئے گئے۔

وفاقی وزیرِ تعلیم کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ متاثرہ اضلاع میں نویں سے بارہویں تک ایک دن چھوڑ کے ایک دن کلاسیں شروع کی جائیں گی،تاکہ طلباء بورڈ کے امتحانات کی تیاری کر سکیں، نویں سے بارہویں جماعت تک امتحانات مئی کے آخری ہفتے میں ہوں گے۔

شفقت محمود نے بتایا ہے کہ نویں سے بارہویں جماعت کے امتحانات نئی تاریخوں کے تحت ہوں گے، امتحانات کی نئی تاریخوں کا اعلان متعلقہ بورڈ کریں گے تاہم انھوں نے بتایا کہ اے لیول، او لیول، اے ایس، آئی جی سی ایس ای کے امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ امتحانات کا نیا شیڈول مدِنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹیز میں داخلے کیئے جائیں گے، متاثرہ اضلاع کی یونیورسٹیز میں آن لائن کلاسیں جاری رہیں گی، 8 فیصد سے کم کیسز والے اضلاع میں یونیورسٹیاں کھول دی جائیں گی۔

شفقت محمود کا یہ بھی کہنا ہے کہ اے لیول، او لیول، اے ایس، آئی جی سی ایس ای کے امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے ، تاہم یہ نہیں بتایا کہ اگر باقی تعلیمی اداروں کے طلبہ کی تعلیم حرج ہوتی ہے تو اے لیول والوں کی کیسے متاثر نہیں ہوتی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
0Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »