دھمکی کےتحت مزاکرات ناقابل قبول یہ اسلامی نظریات کے بھی خلاف ہے،ایرانی سفیر
فوٹو : فائل
اسلام آباد: پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے واضح کیا ہے کہ دھمکی کےتحت مزاکرات ناقابل قبول یہ اسلامی نظریات کے بھی خلاف ہے،ایرانی سفیر نےکہا ہے کہ امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے تحت مذاکرات کسی صورت قبول نہیں کیے جا سکتے، کیونکہ ایک بڑی تہذیب رکھنے والا ملک طاقت اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔
مزاکرات کے حوالے سے ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ دھمکی اور زور زبردستی کے سائے میں مذاکرات نہ صرف ناقابلِ قبول ہیں بلکہ یہ اسلامی اور نظریاتی اصولوں کے بھی خلاف ہیں۔
انھوں نے مزاکرات سے انکار کئے بغیر واضح کیا کہ ایک بڑی تہذیب کا حامل ملک کبھی بھی دباؤ اور طاقت کے ذریعے فیصلے قبول نہیں کرتا۔
It’s a truth universally acknowledged that a single country in possession of a large Civilisation, will Not negotiate under Threat and Force.
This is a substantial, Islamic and theological principle.
I wish the US would have perceived …
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) April 21, 2026
رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ امریکا کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے تھا کہ ایسے حالات میں مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
اس سے قبل ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ سے متضاد اشارے مل رہے ہیں، بامعنیٰ مذاکرات کی بنیاد معاہدے پورے کرنے پر ہوتی ہے۔
ایرانی صدرمسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کے امریکا پر اعتماد نہ ہونے کی وجوہات تاریخی بد اعتمادی ہے، امریکا ایران سے سرینڈر چاہتا ہے جبکہ ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی۔
اسی طرح کا مؤقف ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Comments are closed.