پاور سیکٹر کے ملازمین کی مفت بجلی ختم کر دی گئی، حکومت کی طرف سے فیصلہ کاخیر مقدم
فوٹو : فائل
اسلام آباد / لاہور: پاور سیکٹر کے ملازمین کی مفت بجلی ختم کر دی گئی، حکومت کی طرف سے فیصلہ کاخیر مقدم کرتے ہیں، یہ کہنا ہے، وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری کا، انھوں نے کہا کہ حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ اقدام ملک میں توانائی اصلاحات کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاور سیکٹر کے اہلکاروں کے فری یونٹس کا خاتمہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معزز عدالت نے پاور ڈویژن کی جانب سے دائر درخواست کو منظور کرتے ہوئے اس پالیسی کو قانونی جواز فراہم کیا، جو حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔
وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ فری یونٹس کا خاتمہ عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا، جسے اب عملی شکل دی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ کم ہوگا بلکہ توانائی کے شعبے میں شفافیت اور انصاف کو بھی فروغ ملے گا۔
فری یونٹس کے خاتمے سے مالی بوجھ میں کمی آئے گی
حکومتی ذرائع کے مطابق پاور سیکٹر ملازمین کو ماضی میں دی جانے والی مفت بجلی کی سہولت قومی خزانے پر اربوں روپے کا بوجھ ڈال رہی تھی۔ اس سہولت کے خاتمے سے توانائی کے شعبے میں مالی نظم و ضبط بہتر ہونے اور گردشی قرضے میں کمی آنے کی توقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے تحت اب پاور سیکٹر کے ملازمین کو دیگر شہریوں کی طرح بجلی کے بل ادا کرنا ہوں گے، جبکہ کسی بھی قسم کی خصوصی رعایت کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔
اویس لغاری نے مزید کہا کہ حکومت آئندہ بھی ایسے اقدامات جاری رکھے گی جو ملک اور قوم کی اجتماعی بہتری کے لیے ضروری ہوں، اور توانائی کے شعبے کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد دیں۔
وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا پاور سیکٹر کے اہلکاروں کے فری یونٹس ختم کر دیئے گئے ہیں، فری یونٹس کا خاتمہ عوام کا سب سے پرانا اور دیرینہ مطالبہ تھا، ہر وہ اقدام کریں گے جو ملک اور قوم کی اجتماعی بہتری کے لیے ہو.
Comments are closed.