امریکہ ایران مزاکرات کا دوسرا دور، پنجاب پولیس طلب ، پنڈی اسلام آباد میں ٹرانسپورٹ اڈے بند
فوٹو : سوشل میڈیا
اسلام آباد: امریکہ ایران مزاکرات کا دوسرا دور، پنجاب پولیس طلب ، پنڈی اسلام آباد میں ٹرانسپورٹ اڈے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے باعث جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے.
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کے پیش نظر سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ شہر بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ حساس مقامات، خصوصاً ریڈ زون کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
پولیس کے ساتھ رینجرز اور ایف سی کے اہلکار بھی مختلف اہم مقامات پر تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ریڈ زون میں غیرمتعلقہ افراد کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ شہر کی اہم شاہراہوں پر اضافی ناکے قائم کر کے ہر آنے جانے والی گاڑی کی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔ کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا ہے۔
پنجاب پولیس کی جانب سے بھی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر نفری اسلام آباد پہنچ چکی ہے۔ ایک ڈی آئی جی، 8 ڈی پی اوز اور 16 ایس ایس پیز و ایس پیز کی قیادت میں ڈھائی ہزار سے زائد اہلکار، جن میں 800 ایلیٹ کمانڈوز شامل ہیں، وفاقی پولیس کے ساتھ مل کر وی وی آئی پیز کی موجودگی تک فرائض انجام دیں گے۔
شہر کی صفائی، سڑکوں کی مرمت اور فٹ پاتھوں کی تزئین و آرائش کا کام بھی تیزی سے جاری ہے تاکہ غیر ملکی وفود کی آمد کے موقع پر دارالحکومت کو مکمل طور پر تیار رکھا جا سکے۔
راولپنڈی اسلام آباد میں ٹرانسپورٹ پابندیاں، عوام کو سفری مشکلات
امریکہ اور ایران مذاکرات کے ممکنہ انعقاد کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد میں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آج رات 12 بجے سے جڑواں شہروں کے تمام بڑے ٹرانسپورٹ اڈے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جن میں پیرودھائی جنرل بس اسٹینڈ اور دیگر ڈی کلاس اڈے بھی شامل ہیں۔
یہ فیصلہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ٹرانسپورٹ یونینز اور راولپنڈی پولیس کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں سیکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
حکام کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد سے دیگر اضلاع جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ عارضی طور پر معطل رہے گی جبکہ دیگر شہروں سے آنے والی ٹریفک بھی محدود کر دی جائے گی۔ تاہم انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ کو جزوی طور پر بحال رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کو مکمل مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس کے علاوہ میٹرو بس (ریڈ اور گرین لائن) اور الیکٹرک بس سروس کو وی آئی پیز کی آمد سے 72 گھنٹے قبل معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ کو فوری طور پر بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا اطلاق 26 اپریل تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے دوران سیکیورٹی ادارے مکمل الرٹ رہیں گے اور دارالحکومت میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات برقرار رکھے جائیں گے۔
اڈے کُھلے ہیں اور ٹرانسپورٹ چل رہی ہے، ضلعی انتظامیہ
دوسری طرف اسلام آباد میں بس اڈوں کے بند ہونے کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کی جانب سے وضاحتی بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں تمام بس اڈے معمول کےمطابق کھلے ہیں اورفیض آباد سمیت تمام اڈوں پر تمام قسم کی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت روٹین کے مطابق جاری ہیں.
Comments are closed.