کوئٹہ میں چمن ریلوے پھاٹک پر خود کش حملہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی

فوٹو : سوشل میڈیا

کوئٹہ : پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن ریلوے پھاٹک پر خود کش حملہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی، شٹل ٹرین کے گزرنے کے دوران خودکش دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ایف سی کے 3 جوانوں سمیت 18 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوگئے.

دھماکے سے ٹرین کی متعدد بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں،پولیس حکام اور ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ اس وقت پیش آیا جب دہشت گردوں نے صبح 8 بج کر 5 منٹ پر چمن ریلوے پھاٹک پر شٹل ٹرین کو نشانہ بنایا، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی.

ٹریک کے ارد گرد کھڑی کئی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، یہ ٹرین مسافروں کو لے کر کوئٹہ اسٹیشن جارہی تھی ان مسافروں کو پشاور جانے کے لیے جعفر ایکسپریس میں سوار ہونا تھا۔ دھماکے سے ٹرین کی دو بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں.

پھاٹک کے قریب پارکنگ لاٹ میں موجود درجنوں گاڑیاں تباہ ہوگئیں جب کہ گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا، واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری اور امدادی ٹیموں کی ایمبولینسز جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دی گئیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ابتدائی تحقیقات اور پولیس کے بیانات کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا، پولیس حکام نے ابتدائی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چمن پھاٹک کے قریب ٹرین کو ریلوے ٹریک کے پاس نشانہ بنایا گیا ہے.

دھماکے کے فوراً بعد پورے علاقے میں شدید فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں مصروف ٹیموں اور مقامی لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا تاہم سیکیورٹی فورسز نے پوزیشنیں سنبھال کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

امدادی سرگرمیوں میں مصروف ریسکیو ذرائع نے اموات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس افسوسناک حادثے میں اب تک 18 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، شہدا میں ایف سی کے 3 جوان بھی شامل ہیں جب کہ 35 افراد شدید زخمی، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق اب تک 8 لاشوں کو سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا جا چکا ہے اور باقی ہلاک ہونے والوں اور تمام زخمیوں کو بھی فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں پہنچا دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں بے گناہ متعدد خواتین اور بچے زخمی ہوئے، دھماکے کے بعد تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکے میں 30 کلو سے زائد دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

Comments are closed.