سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف کیس سننے کیلئے بڑا بینچ تشکیل دینا ضروری نہیں، آئینی عدالت

27ویں ترمیم کے مطابق تین آئینی و عدالتی اداروں کی تشکیل نو کردی گئی

فوٹو : فائل

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت میں ایک کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف کیس سننے کیلئے بڑا بینچ تشکیل دینا ضروری نہیں، آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف بینچ سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا

 وفاقی آئینی عدالت میں پی ٹی سی ایل پنشنرز کیس کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف کیس سننے کے لیے بڑا بینچ تشکیل دینا ضروری نہیں ہے۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی، اس دوران پی ٹی سی ایل ملازمین کی جانب سے سابق جج شوکت عزیز صدیقی عدالت میں پیش ہوئے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اس معاملے میں فیصلہ دیا تھا جبکہ وفاقی آئینی عدالت کا موجودہ 2 رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اس حوالے سے عدالت کے متعدد فیصلے موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بے فکر رہیں، ہمارا یہ 2 رکنی بینچ ہی کافی ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سماعت کے لیے بڑے بینچ کی ضرورت نہیں۔

بعد ازاں عدالت نے پی ٹی سی ایل ملازمین سے متعلق تمام مقدمات کو یکجا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔ یہ سماعت چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی تھی۔

Comments are closed.