صوابی اراضی معاوضہ کیس میں خیبرپختونخوا حکومت کی تمام اپیلیں مسترد

عمران خان کی  آنکھ کا معاملہ سپریم کورٹ نے نمٹا دیا،7 صفحات کا حکم نامہ جاری

فوٹو : فائل 

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ریاست عوامی مفاد میں زمین حاصل کرنے کا اختیار رکھتی ہے، تاہم متاثرہ شہریوں کو مکمل، منصفانہ اور حقیقی معاوضہ دینا آئینی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اراضی کے معاوضے کا اصول "سونے کے بدلے سونا، تانبہ نہیں” ہونا چاہیے تاکہ متاثرہ مالک کو مکمل مالی انصاف فراہم کیا جا سکے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے صوابی اراضی معاوضہ کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں خیبرپختونخوا حکومت کی تمام سول اپیلیں مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور ریفرنس کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ زمین کی قیمت کا تعین صرف سرکاری ریٹ کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا بلکہ مارکیٹ ویلیو، زمین کے ممکنہ استعمال، مستقبل کی ترقی اور افراطِ زر کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر اراضی کے حصول میں تاخیر کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہو تو اسے بھی معاوضے کے تعین میں شامل کیا جائے۔

سپریم کورٹ کے مطابق متاثرہ زمین مالک کو مکمل مالی انصاف فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے اور منصفانہ معاوضہ ہر متاثرہ شہری کا بنیادی حق ہے۔
یہ مقدمہ صوابی میں نہری منصوبے کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق تھا۔

زمین مالکان نے سرکاری معاوضے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر ریفرنس کورٹ نے شواہد کی بنیاد پر معاوضہ بڑھا دیا تھا۔ بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ نے بھی ریفرنس کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، جسے خیبرپختونخوا حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے حکومت کے تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیا اور تمام سول اپیلیں خارج کر دیں، جس کے بعد زمین مالکان کے حق میں کیے گئے فیصلے برقرار رہیں گے۔

صوابی اراضی معاوضہ کیس میں خیبرپختونخوا حکومت کی تمام اپیلیں مسترد

Comments are closed.