18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ
فوٹو : سوشل میڈیا
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کا 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافے، تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی اور دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا۔ بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا جبکہ وزیر خزانہ کی تقریر سے قبل اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت مہنگائی کے باعث تنخواہ دار طبقے کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے، اسی لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف آمدنی کے درجات میں انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد، جبکہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدنی رکھنے والوں کے لیے شرح 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ دفاعی اخراجات کے لیے 3 ہزار ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
دفاعی بجٹ میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 17.6 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال دفاع کے لیے 2 ہزار 550 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دفاعی بجٹ میں اضافے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط اور ناقابل تسخیر بنانے کے لیے دفاعی شعبے کے وسائل میں اضافہ ناگزیر ہے۔
وفاقی بجٹ 2026-27 میں حکومت نے ایک جانب سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقے کو محدود ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، جبکہ دوسری جانب دفاع اور قرضوں کی ادائیگی جیسے بڑے اخراجات کے لیے بھی خطیر رقوم مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
Comments are closed.