فیصل راٹھور کالعدم قرار دینے کے بعد اُسی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مزاکرات کے خواہشمند

فوٹو : سوشل میڈیا

اسلام آباد: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور کالعدم قرار دینے کے بعد اُسی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مزاکرات کے خواہشمند ہیں ، فیصل راٹھور کہتے ہیں انھیں پہلے سے ہی علم تھا کہ معاملات تصادم کی طرف ہی جائیں گے.

راولاکوٹ احتجاج اور اموات کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ ’ہم کوئی ایسا راستہ تلاش کر رہے ہیں کہ افہام و تفہیم سے مسئلہ حل ہو.

انھوں نے کہا کہ ریاست کو ہرا کر وہ (جوائنٹ ایکشن کمیٹی) بھی جیت نہیں سکتے اور اگر ریاست جیت بھی جائے تو انسانی جانوں کے ضیاع کے بدلے حاصل ہونے والی جیت کو، میں جیت تصور نہیں کروں گا۔‘

وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور نے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران بی بی سی کو بتایا کہ آج صورتحال جس طرف جا چکی ہے مجھے اس کا اندازہ پہلے ہی ہو چکا تھا کیونکہ میں اس مذاکراتی عمل کا شروع ہی سے حصہ تھا۔ میں وزیر اعظم نہیں تھا، تب بھی اس سارے عمل میں شامل تھا۔

جب فیصل ممتاز راٹھور سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ اپنی حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بات کرنے کو تیار ہیں؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ ’جب طالبان سے بات چیت ہو سکتی ہے، تو اُن سے کیوں نہیں؟‘

کشمیر پولیس کے مطابق ان جھڑپوں کے نتیجے میں کشمیر پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے چار اہلکار اور تین مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر ’دہشتگردی‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا ہے مگر وزیر اعظم فیصل راٹھور کے مطابق وہ اب بھی اس گروپ سے بات کرنے کو تیار ہیں۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر سے دریافت کیا گیا کہ کیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے سے متعلق شواہد اُن کے پاس موجود ہیں؟ تو اس پر فیصل راٹھور کا کہنا تھا کہ ’شواہد میڈیا پر شیئر نہیں کیے جا سکتے۔ جن کے پاس شواہد ہیں، انھوں نے ہی (کالعدم قرار دینے کا) فیصلہ کیا۔‘

واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون (منگل) کو کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم اس سے قبل ہی کشمیر حکومت نے اس کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے بعد اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔

Comments are closed.