ملک میں پٹرول بحران کا خطرہ ،تیل کمپنیوں نے حکومت کو بتادیا ہنگامی اقدامات کا مطالبہ
فوٹو : فائل
اسلام آباد : ملک میں پٹرول بحران کا خطرہ ،تیل کمپنیوں نے حکومت کو بتادیا ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے،آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کو خط لکھا ہے.
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے وفاقی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ذخائر صرف تقریباً 15 دن کی ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہیں، جبکہ درآمدی کارگو کی کلیئرنس میں مزید تاخیر سے سپلائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک ک ارسال کیے گئے خط میں صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت صرف تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار میٹرک ٹن موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کا ذخیرہ موجود ہے۔
اس خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ درآمدی پیٹرول کارگو کی کسٹمز کلیئرنس ویبوک (WeBOC) نظام میں تاخیر کے باعث متاثر ہو رہی ہے۔ اگر تین درآمدی کارگو بروقت کلیئر نہ ہوئے تو ملک میں پیٹرول کی سپلائی بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
او سی اے سی کے مطابق حکومت کی جانب سے 66.7 ارب روپے کی عدم ادائیگی کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس سے نئے درآمدی آرڈرز اور سپلائی چین بھی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔
اس حوالے سے میڈیا رپورٹ کے مطابق تیل کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ کم ذخائر، بڑھتی ہوئی طلب، درآمدی ایندھن کی کلیئرنس میں تاخیر اور مالی مسائل مل کر ملک میں پیٹرول کی دستیابی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسٹمز کلیئرنس کا عمل فوری تیز کیا جائے، واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے اور سپلائی چین کو مستحکم رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک میں کسی بھی ممکنہ ایندھن بحران سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی، شپنگ شیڈول اور بندرگاہوں پر کلیئرنس میں معمولی تاخیر بھی مقامی مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تاہم حکومتی سطح پر بروقت اقدامات سے سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
Comments are closed.