صرف 15 دن کا تیل ذخیرہ باقی ہونے کے حوالے سے اوگرا کا موقف
فوٹو : فائل
اسلام آباد: ملک بھر میں صرف 15 دن کا تیل ذخیرہ باقی ہونے کے حوالے سے اوگرا کا موقف سامنے آگیا،ملک میں پیٹرول کی دستیابی سے متعلق آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے مؤقف میں واضح تضاد سامنے آیا۔ ہے۔
چیئرمین اوگرا نبیل اعوان نے آئل کمپنیوں کے اس دعوے کی تردید کر دی ہے کہ ملک میں صرف 15 روز کی ضرورت کے برابر پیٹرول کا ذخیرہ باقی رہ گیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین اوگرا نبیل اعوان نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے تقریباً 35 روز کا پیٹرول اسٹاک خرید کر مارکیٹ سے غائب کر رکھا ہے، جس کے باعث مصنوعی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی افواہیں گردش کرتی ہیں، بعض عناصر ذخیرہ اندوزی شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے بقول قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے قبل ٹینکرز کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ موٹرویز کی حدود سے باہر کھڑے رہیں تاکہ سپلائی سست ہو اور بعد میں زیادہ قیمت پر پیٹرول فروخت کیا جا سکے۔
چیئرمین اوگرا نے آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا جس میں حکومت کو ارسال کیے گئے خط میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک میں صرف 15 روز کی ضرورت کے برابر پیٹرول ذخیرہ موجود ہے اور درآمدی کارگو کی کلیئرنس میں تاخیر کے باعث سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد، لاہور اور دیگر بڑے شہروں سے بعض نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی محدود دستیابی یا قلت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جبکہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے بیشتر پمپس پر معمول کے مطابق سپلائی جاری ہے۔
سینیٹ کمیٹی نے پیٹرول کی فراہمی، ذخیرہ اندوزی کے الزامات اور مارکیٹ کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ اوگرا نے یقین دہانی کرائی کہ صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی
Comments are closed.