طورخم بارڈر فوری کھولا جائے، معیشت تباہ ہو رہی ہے تاجروں کا حکومت سے مطالبہ

فوٹو : پی آر 

اسلام آباد: طورخم بارڈر سے وابستہ امپورٹرز، ایکسپورٹرز، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس، ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور مقامی نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ طورخم بارڈر کو فوری طور پر ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولا جائے، زیر التوا ٹیکس ریفنڈز جاری کیے جائیں، متاثرہ تاجروں کو معاوضہ دیا جائے اور سرحدی تجارت کی بحالی کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس کے صدر مجیب شنواری، سابق رکن صوبائی اسمبلی شفیق شیر آفریدی، سابق صدر ایمل خان شنواری اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ تقریباً 10 سے 11 ماہ سے طورخم بارڈر کی بندش نے خیبر اور سرحدی علاقوں کی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر اور طورخم کے عوام کا روزگار مکمل طور پر سرحدی تجارت سے وابستہ ہے، جبکہ بارڈر کی طویل بندش کے باعث ہزاروں تاجر، ٹرانسپورٹرز، مزدور اور کلیئرنگ ایجنٹس مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجروں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے تجارت کو سیاسی معاملات سے الگ رکھتے ہوئے بارڈر کو بلا تعطل کھولا جائے۔

تاجروں نے بتایا کہ افغانستان کی منڈیوں میں پاکستانی تاجروں کے اربوں روپے پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ حالیہ سرحدی کشیدگی کے دوران زیرو پوائنٹ پر موجود درآمدی و برآمدی دفاتر اور دیگر تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس کا تاحال ازالہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ املاک کا فوری سروے کرا کر مناسب معاوضہ ادا کیا جائے، جبکہ ایف بی آر اور وزارت تجارت امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کے زیر التوا ٹیکس ریفنڈز فوری جاری کریں تاکہ کاروباری طبقہ مالی بحران سے نکل سکے۔

پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ طورخم پر نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے قائم جدید ٹرمینل بھی بارڈر بند ہونے کے باعث غیر فعال ہو چکا ہے اور اس وقت وہاں صرف افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری ہے۔ تاجروں نے اضافی فیسوں اور چارجز کے نفاذ پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

مقررین نے کہا کہ طورخم بارڈر کی بندش سے صرف خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ پنجاب، سندھ اور ملک بھر کی صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ چاول، سیمنٹ، ادویات، زرعی اجناس، پھل، سبزیوں اور دیگر اشیا کی برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ حکومت کو بھی کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سرحدی تجارت جلد بحال نہ ہوئی تو بے روزگاری، غربت اور سماجی مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔

تاجروں نے وفاقی و صوبائی حکومت، وزارت تجارت، ایف بی آر اور متعلقہ سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا کہ طورخم بارڈر فوری کھولا جائے، نقصانات کا ازالہ کیا جائے، ٹیکس ریفنڈز ادا کیے جائیں اور متاثرہ کاروباری طبقے کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے۔

طورخم بارڈر فوری کھولا جائے، معیشت تباہ ہو رہی ہے تاجروں کا حکومت سے مطالبہ

Comments are closed.