دھمکی کےتحت مزاکرات ناقابل قبول یہ اسلامی نظریات کے بھی خلاف ہے،ایرانی سفیر

دھمکی کےتحت مزاکرات ناقابل قبول یہ اسلامی نظریات کے بھی خلاف ہے،ایرانی سفیر

فوٹو : فائل

اسلام آباد: پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے واضح کیا ہے کہ دھمکی کےتحت مزاکرات ناقابل قبول یہ اسلامی نظریات کے بھی خلاف ہے،ایرانی سفیر نےکہا ہے کہ امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے تحت مذاکرات کسی صورت قبول نہیں کیے جا سکتے، کیونکہ ایک بڑی تہذیب رکھنے والا ملک طاقت اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔

مزاکرات کے حوالے سے ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ دھمکی اور زور زبردستی کے سائے میں مذاکرات نہ صرف ناقابلِ قبول ہیں بلکہ یہ اسلامی اور نظریاتی اصولوں کے بھی خلاف ہیں۔

انھوں نے مزاکرات سے انکار کئے بغیر واضح کیا کہ  ایک بڑی تہذیب کا حامل ملک کبھی بھی دباؤ اور طاقت کے ذریعے فیصلے قبول نہیں کرتا۔

https://

رضا امیری مقدم نے  مزید کہا کہ امریکا کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے تھا کہ ایسے حالات میں مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

اس سے قبل ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ سے متضاد اشارے مل رہے ہیں، بامعنیٰ مذاکرات کی بنیاد معاہدے پورے کرنے پر ہوتی ہے۔

ایرانی صدرمسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کے امریکا پر اعتماد نہ ہونے کی وجوہات تاریخی بد اعتمادی ہے، امریکا ایران سے سرینڈر چاہتا ہے جبکہ ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی۔

 اسی طرح کا مؤقف ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Comments are closed.