ایران کے بعد امریکہ کی طرف سے بھی مجوزہ معاہدہ کی 14 نکات سامنے آگئے

فوٹو : فائل

اسلام آباد: ایران کے بعد امریکہ کی طرف سے بھی مجوزہ معاہدہ کی 14 نکات سامنے آگئے ہیں، اس حوالے سے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کی میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکی حکام نے بتایا کہ 14 نکات یا شقوں پر مشتمل اس معاہدے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

لبنان سمیت تمام محازوں پر جنگ بندی اس معاہدے میں شامل ہے، معاہدے میں ’تمام محاذوں بشمول لبنان فوری اور مستقل فوجی کارروائیوں کے خاتمے‘ کا اعلان کیا گیا ہے۔

فریقین میں 60 دن میں حتمی معاہدہ ہو گا امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کریں گے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی ممکن ہوگی۔

امریکہ 30 دن کے اندر ایران پر عائد اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ اس دوران بحری آمدورفت کو جنگ سے قبل کی سطح کے مطابق بحال کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ حتمی معاہدے کے 30 دن کے اندر امریکہ ایران کے اطراف سے اپنی افواج کے انخلا کا بھی پابند ہوگا۔

آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز 60 دن تک بغیر ٹول کے کھلی رہے گی، جس کے بعد ایران خلیجی ممالک، خصوصاً عمان کے ساتھ مل کر اس پر طویل المدتی معاہدہ کرے گا۔

امریکہ اور علاقائی شراکت دار کم از کم 300 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کریں گے جو ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے ہوگا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ ایرانی رویہ سے مشروط کیا ہے۔

اس معاہدے کی ایک شق یہ بھی ہے کہ امریکہ اس بات کا پابند ہوگا کہ ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیاں ختم کی جائیں، جس کا شیڈول بعد میں طے کیا جائے گا۔

دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور ایران اپنے افزودہ جوہری مواد کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ’موقع پر ملا کر غیر مؤثر‘ کرنے پر آمادہ ہوگا۔

Comments are closed.