جنگ بندی معاہدہ پر ڈونلڈ ٹرمپ اور مسعود پزشکیان دستخط کر سکتے ہیں، ایرانی وزارتِ خارجہ
فوٹو : فائل
تہران : جنگ بندی معاہدہ پر ڈونلڈ ٹرمپ اور مسعود پزشکیان دستخط کر سکتے ہیں، ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے.
بیان میں کہا گیا ہے دونوں ممالک کے صدور جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔‘ تاہم ایران کی جانب سے اس بیان کے سامنے آنے سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ممکن ہے کہ وہ جمعہ کے روز امن معاہدے پر دستخط کے حوالے سے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تقریب کے لیے وہاں رک جائیں۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یہ تجویز ’زیر غور ہے اور ابھی اس پر غور کیا جا رہا ہے‘۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے جی7 اجلاس کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ممکن ہے کہ وہ جمعہ کے روز امن معاہدے پر دستخط کے حوالے سے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تقریب کے لیے وہاں رک جائیں.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ’ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے 60 دن کی مدت کوئی حتمی یا لازمی ڈیڈ لائن نہیں ہے۔‘
پیرس پہنچنے کے بعد ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا وہ معاہدے کے لیے کسی سخت ڈیڈ لائن کو دیکھتے ہیں ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’نہیں، ایسا نہیں ہے۔ اس میں زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔‘
موجودہ معاہدے کے مطابق دونوں فریق 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’اگر دیگر ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کے پاس بالکل نہ ہونا ’کسی حد تک غیر منصفانہ‘ ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’بیلسٹک میزائل اس معاملے سے مختلف ہیں جسے ہم جوہری ہتھیاروں کے تناظر میں زیرِ بحث لاتے ہیں۔ لیکن اگر سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک کے پاس ایسے میزائل ہیں تو میرا خیال ہے کہ متناسب حد تک ایران کے پاس بھی ہونا قابلِ قبول ہے۔‘
ایک اور سوال کے جواب میں جس میں پوچھا گیا تھا کہ معاہدے کے بعد امریکہ اپنی فوج خلیج میں کتنے عرصے تک برقرار رکھے گا ٹرمپ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کچھ عرصے تک۔‘
Comments are closed.