آبنائے ہرمز میں آمدورفت، ایران کا دنیا بھر سے جہازوں پر سروس فیس وصولی کا اعلان
فوٹو : فائل
اسلام آباد: آبنائے ہرمز میں آمدورفت، ایران کا دنیا بھر سے جہازوں پر سروس فیس وصولی کا اعلان ، چین میں ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے بیجنگ میں ’ورلڈ پیس فورم‘ میں کہا امریکی مخالفت کے باوجود بھی تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ’سروس فیس‘ وصول کرے گا۔
ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا کہ ایران، عمان کے تعاون سے اس اہم آبی گزرگاہ کے لیے ’نئے انتظامات‘ پر کام کر رہا ہے
انھوں نے واضح کیا کہ ’ایک ایسے ملک کے طور پر جس کے علاقائی پانیوں میں ہرمز شامل ہے، ہم یقینی طور پر سروس فیس وصول کریں گے۔‘
رحمانی فضلی نے زور دیا کہ یہ ’ٹرانزٹ فیس‘ نہیں شمار ہو گی، ان کے بقول، ان نئے انتظامات کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے کی حفاظت کو یقینی بنانا، جہازوں کی آمدورفت کی نگرانی کرنا اور جہازوں کی زیادہ مقدار کے ماحولیاتی نتائج سے نمٹنا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سفیر نے یہ بھی کہا کہ جو ممالک ’مشکل دنوں‘ میں ایران کے ساتھ کھڑے رہے ہیں ان کے ساتھ ’خصوصی سلوک‘ کیا جائے گا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے کے مطابق تجارتی بحری جہاز 60 دن تک بغیر فیس ادا کیے آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مدت ختم ہونے کے بعد کیا انتظامات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عام طور پر دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے گزرگاہ ہے، لیکن مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران ایران نے اس راستے کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا، اب ایران مستقبل میں یہ کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے.
Comments are closed.