فوٹو : پی آر
اسلام آباد (زمینی حقائق ڈاٹ کام) پارلیمانی سیکریٹری برائے وزارتِ مواصلات انجینئر گل اصغر خان بگھور نے خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے (EWG) منصوبے کی نمایاں کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے منصوبوں کا تسلسل ملک میں جامع ترقی اور خواتین و لڑکیوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے منصوبے کے شراکت داروں کی جانب سے تعلیم تک رسائی بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کمیونٹی کی سطح پر صنفی مساوات کو فروغ دینے کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے نے جن اضلاع میں کام کیا وہاں دیرپا اور مثبت اثرات مرتب کیے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کی جانب سے کامن ویلتھ آف لرننگ (COL) اور بیداری کے اشتراک سے، جبکہ گلوبل افیئرز کینیڈا (GAC) کے تعاون سے تین سالہ خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے (EWG) منصوبے کی کامیاب تکمیل پر منعقدہ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب میں پالیسی سازوں، حکومتی عہدیداروں، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں، ماہرینِ تعلیم، صحافیوں، کمیونٹی رہنماؤں اور منصوبے سے مستفید ہونے والی خواتین نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد منصوبے کی کامیابیوں کا جشن منانا، حاصل شدہ تجربات کا جائزہ لینا اور پاکستان بھر میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق، صنفی مساوات اور بااختیار بنانے کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کرنا تھا۔
خواتین کی معاشی خودمختاری اور قومی سطح پر ماڈل کے فروغ پر زور
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو نے نمائش میں خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں، حوصلے اور کاروباری مہارتوں کو سراہتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس میں اسی نوعیت کی ایک نمائش کے انعقاد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی تاکہ خواتین کاروباری افراد کو اپنی مصنوعات کی نمائش، وسیع تر مارکیٹ تک رسائی اور کاروبار کے فروغ کے مزید مواقع میسر آسکیں۔انہوں نے خواتین کی معاشی خودمختاری کے فروغ کے لیے اپنی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

مس نورین بانو لہری نے خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے (EWG) منصوبے کے جامع اور کمیونٹی پر مبنی طریقہ کار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے کامیاب ماڈلز اور بہترین عملی تجربات کو قومی پالیسیوں اور ادارہ جاتی نظام کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ ان کی پائیداری اور ملک بھر میں ان کے اثرات کو مزید وسعت دی جا سکے۔ انہوں نے نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی جانب سے خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
مس ساشا اولیویرا نے گزشتہ تین برسوں کے دوران خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے (EWG) منصوبے کی نمایاں کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ گلوبل افیئرز کینیڈا، کامن ویلتھ آف لرننگ، سپارک اور بیداری کے اشتراک نے خواتین اور لڑکیوں کے لیے تعلیم، روزگار، صنفی مساوات اور حقوق کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب مقامی تنظیموں کو کمیونٹی کی سطح پر حل تلاش کرنے اور ان پر عمل درآمد کی قیادت دی جائے۔ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کے لیے دیرپا مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے کینیڈا کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
کامن ویلتھ آف لرننگ کی سینئر ایڈوائزر برائے خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے (EWG) منصوبہ مس فرانسس فریرا نے منصوبے کی کامیاب تکمیل پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خواتین اور لڑکیوں کے حقوق، تعلیم اور معاشی خودمختاری کے فروغ کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔
انہوں نے کامن ویلتھ آف لرننگ، گلوبل افیئرز کینیڈا، سپارک، بیداری اور مقامی شراکت داروں کے مؤثر تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے کمیونٹی پر مبنی طریقہ کار نے نہ صرف خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنایا بلکہ خاندانوں، کمیونٹیز اور مجموعی معاشرے پر بھی مثبت اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔
سپارک کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر آسیہ عارف خان نے منصوبے کے ذریعے تعلیم، مہارتوں کی ترقی اور کمیونٹی کی شمولیت کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو منصوبے کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی کامیابی مضبوط شراکت داری اور اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس نے مساوات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پائیدار راستے ہموار کیے۔
بیداری کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عنبرین اعجاز نے منصوبے کے تمام شراکت داروں کے مؤثر تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے (EWG) منصوبے کی کامیابی ان کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط کمیونٹی شراکت داری اور مقامی سطح پر کیے گئے اقدامات نے دیرپا اور پائیدار تبدیلی کی مضبوط بنیاد رکھی ہے۔
خواتین کیلئے 4 لاکھ 65 ہزار صنفی مساوات کے سیشنز کا اہتمام کیا، سبین الماس
سپارک کی پروگرام منیجر سبین الماس نے منصوبے کی نمایاں کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دس ہزار سے زائد لڑکیوں اور لڑکوں کو دوبارہ رسمی تعلیم اور اوپن اسکولنگ پروگراموں میں شامل کیا گیا، جبکہ 77 ہزار سے زائد خواتین اور لڑکیوں کو فنی اور لیبر مارکیٹ سے متعلق مہارتوں کی تربیت فراہم کی گئی تاکہ ان کی معاشی خودمختاری کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے کے تحت چار لاکھ پینسٹھ ہزار سے زائد خواتین اور لڑکیوں کو انسانی حقوق اور صنفی مساوات سے متعلق آگاہی سیشنز کے ذریعے مستفید کیا گیا، جبکہ خواتین کے حقوق، تعلیم اور سماجی شمولیت کے فروغ کے لیے چلائی جانے والی عوامی مہمات کے ذریعے دس لاکھ سے زائد افراد تک رسائی حاصل کی گئی۔
تقریب سے رکن قومی اسمبلی مس حمہ اختر چغتائی، ڈسٹرکٹ ٹاسک فورس کے اراکین، جناب غضنفر بدھل، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر برائے بین الاقوامی تعاون و تعلیمی منصوبہ بندی ڈاکٹر زاہد مجید اور شیلٹر ہوم ملتان کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر مس کومل اعجاز نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ منصوبے کے نتیجے میں نچلی سطح پر نمایاں مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، خصوصاً عوامی آگاہی میں اضافہ، لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ اور خواتین کی کمیونٹی کی ترقی میں فعال شرکت کو فروغ ملا، جو مقامی شراکت داروں کے مسلسل تعاون کا نتیجہ ہے۔
پاکستان میں 77 ہزار خواتین کو ہنر اور 10 ہزار بچوں کو دوبارہ تعلیم سے جوڑا گیا
Comments are closed.