امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ امن معاہدہ ختم کرنے کا اعلان

ٹرمپ نے مجوزہ جنگ بندی شرائط سخت کر دیں ، ترمیم شدہ مسودہ ایران کو ارسال

فوٹو : فائل

اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ امن معاہدہ ختم کرنے کا اعلان ، فریقین نے جنیوا مزاکرات کے دوران ہی مفاہمت کے بعد آن لائن دستخط کئے تھے جسے ایران اور امریکہ کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد امریکی صدر نے ختم ہونے کا
اعلان کردیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران کہا کہ میرے خیال میں اب یہ معاہدہ ختم ہو چکا ہے اور ایران کے ساتھ وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

ٹرمپ نے نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے گزشتہ رات ایران پر ایک بہت بڑا اور طاقتور حملہ کیا ہے،انہوں نے کہا کہ ”ان ایرانیوں میں کوئی خرابی ہے، یہ بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں، یہ برے لوگ ہیں اور گندا کھیل کھیلتے ہیں۔“

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز ایران نے سعودی عرب اور دوسرے ملکوں کے بحری جہازوں پر حملے کیے تھے جس کے جواب میں امریکی فوج نے کارروائی کر کے ایران کی فوجی طاقت کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔

امریکہ اور ایران کے صدور ڈونلڈ ٹرمپ اور مسعود پزشکیان نے مفاہمت پر دستخط کر دئیے

تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں شاید اپنے بہترین مذاکرات کاروں کو ایران سے بات چیت جاری رکھنے کی اجازت دے دوں۔

اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے اپنے ہی اتحادی نیٹو ممالک کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

ٹرمپ نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کی ہرممکن مدد امریکہ کر رہا ہے اور سب سے زیادہ فنڈز بھی امریکہ ہی دیتا ہے، لیکن نیٹو کی جانب سے ایران کے خلاف ہماری مدد نہیں کی گئی۔

جواب میں نیٹو کے چیف مارک روٹے نے ٹرمپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ یورپی ہوائی اڈوں سے پانچ ہزار طیارے امریکی کارروائیوں کی حمایت میں اڑان بھر رہے ہیں اور پورا یورپ امریکہ کی طاقت کے لیے ایک بڑے پلیٹ فارم کی طرح ہے۔

https://

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے ان کی بات کاٹتے ہوئے جواب دیا کہ برطانیہ نے اپنے تمام فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی اور اٹلی نے تو اڈوں کے معاملے میں امریکہ کا ساتھ دینے میں بہت ہی برا رویہ اپنایا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ نیٹو امریکہ کا ایک مشکل ترین پارٹنر ہے اور ہم نے نیٹو کو روس سے بچانے کے لیے اربوں کھربوں ڈالر خرچ کیے۔

انہوں نے ماضی کے تاریخی فیصلوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکہ کو گرین لینڈ واپس نہیں دینا چاہیے تھا اور اگر وہ اس وقت ہوتے تو پاناما کینال بھی کسی کو نہ دیتے، یہ بھی کہا کہ وہ اب اسپین کے ساتھ بھی کوئی تعلق رکھنا نہیں چاہتے۔

Comments are closed.