190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی نے سزا معطلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا
فوٹو : فائل
اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے کر سزا معطل کی جائے اور دونوں کو رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطلی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مقدمے کے بنیادی قانونی نکات اور دستیاب شواہد کا ابتدائی جائزہ نہیں لیا، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب کی جانب سے بار بار التوا لینے کے باعث اپیل کی سماعت میں غیر ضروری تاخیر ہوئی۔
درخواست کے مطابق دورانِ قید عمران خان کو بینائی کا عارضہ لاحق ہوا اور انہیں علاج کے لیے جیل سے باہر منتقل کرنا پڑا، جبکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کو صحت کے مسائل اور طویل تنہائی کی قید کے باوجود ریلیف نہیں دیا گیا، جس سے انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں کی گرفتاری غیر قانونی طریقے سے عمل میں لائی گئی، جبکہ ایک موقع پر اعلیٰ عدالت اس گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے رہائی کا حکم بھی دے چکی تھی۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ احتساب کے عمل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
پس منظر
احتساب عدالت نے 17 جنوری 2025 کو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے، جبکہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف دونوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں اور سزا معطلی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔
مارچ 2025 میں سزا معطلی کی درخواستیں دائر کی گئیں، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے بعد ازاں سزا معطلی کی درخواستوں پر ریلیف دینے سے انکار کرتے ہوئے مرکزی اپیلوں کی سماعت مقرر کر دی تھی، جس کے بعد اب یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔
190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی نے سزا معطلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا
Comments are closed.