پاکستان میں اپوزیشن کے وفد کو راولاکوٹ جانے سے روک دیا گیا، رہنماؤں کا سہالہ میں دھرنا
فوٹو : اسکرین شاٹ
اسلام آباد: پاکستان میں اپوزیشن کے وفد کو راولاکوٹ جانے سے روک دیا گیا، رہنماؤں کا سہالہ میں دھرنا اور احتجاج، اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر رہنما راولاکوٹ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کیلئے جارہے تھے تاہم اسلام آباد کے علاقے سہالہ میں احتجاجی دھرنا دے دیا۔
وفد کی قیادت تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، قائد حزبِ اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر، جاوید راٹھور، نبیلہ ارشاد، ڈاکٹر ظفر ملک، حسین احمد یوسفزئی، خالد یوسف چوہدری اور دیگر سیاسی رہنما بھی وفد میں شامل ہیں۔
رہنماؤں کے مطابق وفد آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی دھرنے سے اظہارِ یکجہتی، شرکاء سے ملاقات اور ان کے مطالبات و تحفظات سننے کے لیے جا رہا تھا، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سہالہ کے مقام پر انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔
وفد نے راستہ بند کیے جانے کے خلاف موقع پر ہی احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر آزاد کشمیر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنا طے شدہ سیاسی دورہ مکمل کر سکیں۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پرامن سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں گزشتہ چند روز سے عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاجی تحریک جاری ہے۔ مظاہرین بجلی کے نرخ، ٹیکسوں، مہنگائی اور دیگر عوامی مسائل کے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں حکومت اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا، جبکہ مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی عوامی ایکشن کمیٹی سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔
تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کا وفد بھی اسی سلسلے میں راولاکوٹ جا رہا تھا تاکہ زمینی صورتحال کا جائزہ لے اور احتجاجی قیادت سے ملاقات کر سکے۔
Comments are closed.