کراچی میں منشیات کیس، انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
فوٹو : سوشل میڈیا
کراچی: کراچی میں منشیات کیس، انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا کراچی میں مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے خلاف تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی تھی، تاہم پولیس نے آج دوبارہ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت سے رجوع کیا، جس پر عدالت نے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
پولیس حکام کے مطابق جسمانی ریمانڈ ملنے کے بعد تفتیشی ٹیم ملزمہ کو مزید پوچھ گچھ کیلئے اپنے ساتھ لے گئی ہے، جبکہ انمول عرف پنکی کے خلاف ماضی میں درج مقدمات کی تفصیلات بھی اکٹھی کرلی گئی ہیں۔
کوکین، اسلحہ اور آن لائن منشیات سپلائی نیٹ ورک کا انکشاف
پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے گارڈن میں کارروائی کے دوران ملزمہ کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد کی گئی تھیں۔ بعد ازاں ملزمہ کے خلاف اسلحہ برآمدگی کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق گارڈن ویسٹ میں ملزمہ کے قبضے سے ایک پستول بھی برآمد ہوئی، تاہم وہ اسلحے کا لائسنس پیش نہ کرسکی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ انمول عرف پنکی شہر میں منشیات ڈیلنگ اور سپلائی کے ایک منظم نیٹ ورک کو چلا رہی تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ آن لائن آرڈرز کے ذریعے منشیات مخصوص رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کرتی تھی، جبکہ خواتین رائیڈرز کا استعمال بھی کیا جاتا تھا۔
پنکی کی مبینہ آڈیو اور فلیٹ کے ایڈریس پر تنازع
دوسری جانب ملزمہ کی گرفتاری سے قبل پولیس کو چیلنج کرنے کی مبینہ آڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے، جس کے بعد کیس نے مزید توجہ حاصل کرلی ہے۔
ادھر جس رہائشی فلیٹ کا پتہ مقدمے میں درج کیا گیا، وہاں رہائش پذیر خاندان نے پولیس کے مؤقف پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 8 برس سے مذکورہ فلیٹ میں کرائے پر مقیم ہیں اور انمول عرف پنکی کو نہیں جانتے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق پولیس کی غفلت کے باعث ان کا پتہ ایف آئی آر میں شامل کیا گیا، جس سے وہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ دوسری جانب خبر سامنے آنے کے بعد مالک مکان نے بھی فلیٹ خالی کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ 10 مقدمات میں مطلوب اور مفرور تھی جبکہ اس کے ممکنہ ساتھیوں اور نیٹ ورک سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔
Comments are closed.