پاکستان میں پیٹرول پر 145 روپے فی لیٹر ٹیکس، 9 ماہ میں 12 کھرب سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول

پاکستان میں پیٹرول پر 145 روپے فی لیٹر ٹیکس، 9 ماہ میں 12 کھرب سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول

فوٹو : فائل

اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرول پر 145 روپے فی لیٹر ٹیکس، 9 ماہ میں 12 کھرب سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کی گئی پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسز نے شہریوں پر مالی بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارتِ توانائی کے سرکاری اعداد و شمار پر مبنی ماؤنٹین وینچرز کے تازہ تجزیے کے مطابق ملک میں صارفین پیٹرول پر فی لیٹر تقریباً 145 روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے جیونیوزکی رپورٹ کے مطابق 9 مئی 2026 سے نافذ ہونے والی قیمتوں کے تحت پیٹرول کی زیادہ سے زیادہ ڈیپو قیمت 414.78 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی، جس میں 144.26 روپے مختلف ٹیکسز اور لیویز کی مد میں شامل ہیں۔ اس طرح پیٹرول کی مجموعی قیمت کا تقریباً 35 فیصد حصہ صرف حکومتی ٹیکسز پر مشتمل ہے۔

ماؤنٹین وینچرز، جو دبئی میں قائم توانائی اور مارکیٹ ری اسٹرکچرنگ سے متعلق مشاورتی ادارہ ہے، نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پیٹرول پر سب سے زیادہ بوجھ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) کا ہے، جس کی مد میں فی لیٹر 117.41 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 24.35 روپے کسٹمز ڈیوٹی جبکہ 2.50 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی شامل ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس میں بڑا فرق

رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی اصل درآمدی و پیداواری لاگت 246.76 روپے فی لیٹر ہے، جو مجموعی قیمت کا تقریباً 59.5 فیصد بنتی ہے۔ دوسری جانب مارکیٹنگ اور تقسیم کے اخراجات 23.76 روپے فی لیٹر ہیں، جن میں ان لینڈ فریٹ ایکوئلائزیشن مارجن (IFEM)، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور ڈیلرز کمیشن شامل ہیں۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی زیادہ سے زیادہ قیمت 414.58 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، تاہم اس پر ٹیکسوں کا بوجھ نسبتاً کم رکھا گیا ہے۔ ڈیزل پر مجموعی ٹیکس 76.16 روپے فی لیٹر ہے، جو پیٹرول کے مقابلے میں تقریباً 68 روپے کم بنتا ہے۔

اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے پیٹرول پر ڈیزل کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ٹیکس عائد کیا ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں نمایاں فرق ہے۔

اس سے قبل ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا تھا کہ حکومت نے گزشتہ 9 ماہ کے دوران صارفین سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 12 کھرب 5 ارب 18 کروڑ روپے سے زائد وصول کیے۔

دستاویزات کے مطابق جولائی 2025 میں 1 کھرب 45 ارب روپے، اگست میں 1 کھرب 15 ارب روپے جبکہ ستمبر میں 1 کھرب 11 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی صورت میں وصول کیے گئے۔ اسی طرح اکتوبر میں 1 کھرب 45 ارب، نومبر میں 1 کھرب 51 ارب اور دسمبر 2025 میں 1 کھرب 57 ارب روپے کی ریکارڈ وصولیاں کی گئیں۔

مزید اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں 1 کھرب 24 ارب روپے، فروری میں 1 کھرب 20 ارب روپے جبکہ مارچ 2026 میں 1 کھرب 37 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے وصول کیے گئے۔ اس کے علاوہ کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں بھی 35 ارب روپے سے زائد رقم اکٹھی کی گئی۔

Comments are closed.