ایران اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ شئیر کرنے پر آمادہ

فوٹو : فائل

اسلام آباد: ایران اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ شئیر کرنے پر آمادہ ہو گیا اور واضح کیا ہے ایران اپنی صلاحتیں دیگر ممالک خصوصاً شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کر سکتا ہے۔

ایرانی وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اب آزاد اور خود مختار ملکوں کی پالیسی متعین کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ دوسری جانب روس نے اقوامِ متحدہ میں جنگی حالات میں آبنائے ہرمز کے اندر جہاز رانی کو محدود اور کنٹرول کرنے کو ایران کا حق قرار دیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ امریکا اب آزاد ملکوں پر اپنی پالیسی مسلط نہیں کر سکتا۔

وہ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں گفتگو کر رہے تھے ، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے دفاع اجلاس میں ایران کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام اور مسلح افواج کی ثابت قدمی نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ امریکا کو اپنی غیر قانونی اور غیر منطقی شرائط ترک کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق عالمی برادری اب امریکا اور اسرائیل کو ریاستی دہشت گردی کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ایران نے اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں ’ایس سی او‘ کر فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے۔ ترجمان وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں دیگر خودمختار ممالک، خاص طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو دنیا کو یک قطبی نظام سے نکال کر کثیر قطبی نظام کی طرف لے جانے کی عکاسی کرتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق بشکیک ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کرغزستان، روس، پاکستان اور بیلاروس کے وزرائے دفاع سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں باہمی تعاون اور علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر مغربی ممالک کی منافقت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تنازع کی ساری ذمہ داری ایران پر تھوپنے کی کوشش کی گئی اور ایران کو یوں پیش کیا گیا کہ جیسے اس نے اپنے پڑوسیوں پر حملہ کیا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے حالات میں حملے کا شکار ہونے والی کسی بھی ساحلی ریاست کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ سیکیورٹی مقاصد کے لیے اپنے علاقائی پانیوں میں جہاز رانی کو محدود کر سکے۔

Comments are closed.