میدانِ عرفات میں لاکھوں عازمین کا روح پرور اجتماع، خطبۂ حج میں توحید و اتحادِ امت پر زور

فوٹو : سوشل میڈیا 

مکہ مکرمہ : مکہ مکرمہ میں حج کے رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ کے موقع پر دنیا بھر سے آئے لاکھوں فرزندانِ اسلام میدانِ عرفات میں جمع ہوئے جہاں مسجد نمرہ میں خطبۂ حج دیا گیا۔ خطبہ شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی نے دیا جس میں انہوں نے توحید، تقویٰ، صبر، اتحادِ امت اور شعائرِ اسلام کی عظمت پر زور دیا۔

خطبے کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور نبی کریم ﷺ پر درود و سلام سے کیا گیا۔ شیخ الحذیفی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حج کو صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے اور یہ عظیم عبادت بندے کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کا دن نہایت ہولناک ہوگا اور آخرت میں کامیابی صرف خالص توحید کے ذریعے ممکن ہے، جبکہ شرک اور کفر انسان کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس کیلئے دوہری جنت تیار فرماتا ہے اور بے شک اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حج کی منادی کا حکم دیا اور آج دنیا کے کونے کونے سے مسلمان اسی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے بیت اللہ پہنچے ہیں۔

شیخ الحذیفی نے عازمینِ حج کو تلقین کی کہ دورانِ حج ہر قسم کے گناہ، جھگڑے اور ناشائستہ رویے سے اجتناب کریں، کیونکہ شعائر اللہ کا احترام تقویٰ کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف زبانوں، رنگوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا ایک مقام پر جمع ہونا اسلام کے عالمی بھائی چارے کا عظیم مظہر ہے۔

خطبۂ حج میں مناسکِ حج کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ عازمینِ حج عرفات میں وقوف کے بعد مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں رات قیام کے بعد منیٰ جائیں گے۔ منیٰ میں رمیِ جمرات اور دیگر مناسک ادا کیے جائیں گے جبکہ ایامِ تشریق کے دوران کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام حجاج کرام کا حج قبول فرمائے، انہیں خیریت اور سلامتی کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس پہنچائے اور امتِ مسلمہ کو اتحاد و اتفاق کی نعمت عطا فرمائے۔

سعودی حکام کے مطابق حج کے دوران سکیورٹی، صحت اور ٹرانسپورٹ کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ عازمین کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان اس روحانی سفر میں شریک ہیں جبکہ مسجد الحرام اور مشاعر مقدسہ میں عبادات اور دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔

میدانِ عرفات میں لاکھوں عازمین کا روح پرور اجتماع، خطبۂ حج میں توحید و اتحادِ امت پر زور

Comments are closed.